لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پر پنجاب فوڈ اتھارٹی نے شاہدرہ میں کارروائی کرتے ہوئے معروف ملٹی نیشنل آئسکریم برانڈ کی ڈسٹری بیوشن بند کردی اور ڈسٹری بیوٹر پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا۔
معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب سلمیٰ بٹ اور ڈی جی فوڈ اتھارٹی راجہ منصور احمد کی نگرانی میں کارروائی کے دوران فور سٹار ڈسٹری بیوشن کے گودام سے تقریباً 3 ہزار کلوگرام ایکسپائر اور فنگس زدہ آئسکریم برآمد ہوئی۔
فوڈ اتھارٹی حکام کے مطابق برآمد ہونے والی ناقابل استعمال آئسکریم کی بڑی کھیپ کو موقع پر ہی تلف کردیا گیا۔ کارروائی کے دوران انکشاف ہوا کہ ایکسپائر آئسکریم کو منفی 22 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر فریش اسٹاک کے ساتھ رکھا گیا تھا۔
ڈی جی فوڈ اتھارٹی راجہ منصور احمد کے مطابق تلف کی جانے والی آئسکریم گزشتہ سال نومبر میں ہی ایکسپائر ہوچکی تھی، تاہم اس کے باوجود اسے گودام میں محفوظ رکھا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ گودام میں خراب اور ایکسپائر آئسکریم کے لیے الگ سیکشن مختص ہونے کے باوجود ناقابل استعمال آئسکریم کو گودام میں موجود فریش اسٹاک کے ساتھ رکھا گیا تھا۔
فوڈ اتھارٹی کے مطابق مزید تشویشناک بات یہ سامنے آئی کہ ایکسپائر اور خراب آئسکریم کو فریش اسٹاک کے ساتھ مختلف شہروں میں سپلائی کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔ کارروائی کے نتیجے میں ناقص آئسکریم کی ممکنہ سپلائی روک دی گئی۔
کارروائی کے دوران متعلقہ ڈسٹری بیوشن کی سرگرمیاں بھی بند کردی گئیں جبکہ قوانین کی خلاف ورزی پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
ڈی جی فوڈ اتھارٹی راجہ منصور احمد نے کہا کہ عوام کی صحت سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد جاری ہے۔ پنجاب میں ناقص، غیر معیاری اور ایکسپائر اشیائے خورونوش کی فروخت یا سپلائی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ خوراک کے کاروبار کی آڑ میں بچوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے ملک و قوم کے دشمن ہیں، ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
فوڈ اتھارٹی حکام کا کہنا ہے کہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے صوبے بھر میں خوراک کے مراکز، گوداموں اور ڈسٹری بیوشن پوائنٹس کی چیکنگ کا سلسلہ جاری ہے۔











