لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے صنعتی کنکشن کے واجبات کی وصولی کے لیے الگ اور مکمل طور پر ادا شدہ گھریلو بجلی کنکشن منقطع کرنے کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ جسٹس جواد حسن نے غازی اختر خان کی درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو درخواست گزار کے خلاف کسی بھی جبری کارروائی سے روک دیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ شہری کے الگ اور مکمل ادا شدہ رہائشی کنکشن کو صنعتی واجبات کی وصولی کے لیے دباؤ کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ صنعتی کنکشن کے متنازعہ واجبات کی وصولی کے لیے گھریلو میٹر منقطع نہیں کیا جا سکتا، چاہے دونوں کنکشن ایک ہی شخص سے متعلق ہی کیوں نہ ہوں۔
فیصلے کے مطابق گھریلو کنکشن کا الگ میٹر، ریفرنس نمبر، بلنگ ریکارڈ اور ادائیگی کی تاریخ موجود ہے، جبکہ درخواست گزار نے رہائشی کنکشن کے تمام بل باقاعدگی سے ادا کیے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ شہری کو سنے بغیر اس کے بجلی کے میٹر کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
درخواست گزار کے مطابق صنعتی کنکشن کے واجبات ایم/ایس سپیریئر ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ سے متعلق ہیں اور یہ واجبات خود بھی متنازعہ ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ متنازعہ صنعتی واجبات کو حتمی یا تسلیم شدہ واجبات تصور نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ بجلی بنیادی ضرورتِ زندگی ہے اور اس کا حقِ زندگی سے تعلق ہے۔ متعلقہ حکام تمام فریقین، بالخصوص درخواست گزار کو مناسب سماعت کا موقع دے کر قانون کے مطابق وجوہات پر مبنی حکم جاری کریں۔
لاہور ہائیکورٹ نے متعلقہ حکام کو معاملہ دو ہفتوں میں نمٹانے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا کہ درخواست پر فیصلہ ہونے تک گھریلو بجلی کنکشن کے خلاف کوئی جبری کارروائی نہ کی جائے۔ عدالت نے ہدایات جاری کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔










