لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے مویشی منڈی کے ٹھیکیدار کی جانب سے اضافی چارجز وصولی کے نوٹیفکیشن کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے درخواست سیکرٹری لائیو اسٹاک کو بھجوا دی۔ عدالت نے سیکرٹری لائیو اسٹاک کو قانون کے مطابق درخواست پر فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس جواد حسن نے محمد اسماعیل کی درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس جواد حسن نے کہا کہ چار سال میں اتنے قوانین تبدیل ہوگئے ہیں کہ قوانین کتابوں میں دفن ہوگئے ہیں۔ حکومت اچھے کام کر رہی ہے، عدالتیں قوانین سے متعلق حکومت کو گائیڈ لائنز دیتی رہتی ہیں۔
عدالت نے وکلا کو ہدایت کی کہ رولز آف بزنس کو دیکھ کر درخواست دائر کیا کریں۔ جسٹس جواد حسن نے قرار دیا کہ جو کمپنی یا ادارہ رولز آف بزنس میں شامل نہیں، اس کے خلاف پٹیشن قابل سماعت نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا نئے قانون کے تحت ماضی کے جرم کی سزا دی جاسکتی ہے؟ لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
درخواست گزار کے مطابق وہ جھنگ مویشی منڈی بطور ٹھیکیدار چلا رہا ہے، جبکہ پنجاب کیٹل مارکیٹ کمپنی نے سروسز پر سیلز ٹیکس دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ کمپنی نے قانون اور معاہدے کے برعکس نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، لہٰذا عدالت اسے کالعدم قرار دے۔










