لاہور ( پنجاب پوسٹ ) پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب کے اپنے ادارے پروگرام مانیٹرنگ اینڈ امپلیمنٹیشن یونٹ (PMIU) کی رپورٹ کے مطابق صوبے کے متعدد سرکاری اسکول فرنیچر، ٹوائلٹس اور صفائی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جبکہ کئی اضلاع میں اساتذہ کی غیرحاضری بھی سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈیرہ غازی خان، بھکر، چنیوٹ، ملتان، جھنگ، گوجرانوالہ، حافظ آباد، بہاولنگر سمیت مختلف اضلاع کے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان پایا گیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھکر کے 48 فیصد سرکاری اسکولوں میں فرنیچر موجود نہیں، جو صوبے میں سب سے زیادہ شرح ہے۔اسی طرح جھنگ کے 45 فیصد، ڈیرہ غازی خان کے 37 فیصد اور چنیوٹ کے 35 فیصد سرکاری اسکول فرنیچر سے محروم ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گوجرانوالہ کے 34 فیصد، مظفرگڑھ کے 33 فیصد، لیہ کے 29 فیصد جبکہ ساہیوال کے 28 فیصد سرکاری اسکولوں میں بھی طلبہ کے لیے مطلوبہ فرنیچر دستیاب نہیں۔سرکاری اسکولوں میں ٹوائلٹس کی عدم دستیابی بھی ایک بڑا مسئلہ سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈیرہ غازی خان کے 45 فیصد سرکاری اسکولوں میں ٹوائلٹس کی سہولت موجود نہیں، جبکہ ملتان کے 36 فیصد، حافظ آباد کے 33 فیصد، بھکر کے 32 فیصد اور بہاولنگر کے 31 فیصد اسکول بھی ٹوائلٹس سے محروم ہیں۔
اسی طرح میانوالی، رحیم یار خان اور گوجرانوالہ کے 29 فیصد سرکاری اسکولوں میں بھی ٹوائلٹس کی سہولت دستیاب نہیں۔رپورٹ میں لاہور کے 27 فیصد سرکاری اسکولوں میں بھی ٹوائلٹس نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ نے سرکاری اسکولوں میں صفائی کے ناقص انتظامات کی بھی نشاندہی کی ہے۔ متعدد اضلاع کے اسکولوں میں گندگی اور کچرے کے ڈھیر موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔وزیرآباد کے 30 فیصد سرکاری اسکولوں میں گندگی اور کچرے کے ڈھیر پائے گئے، جبکہ گوجرانوالہ اور لودھراں کے 24 فیصد اسکولوں میں صفائی کی صورتحال تسلی بخش نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ویلکم ٹو اسکول، چھٹیاں ختم ہوتے ہی بچوں کے پہلے روز وزیر تعلیم پنجاب نے کیا کہا؟
اسی طرح چنیوٹ اور لاہور کے 22 فیصد سرکاری اسکولوںمیں بھی صفائی کے ناقص انتظامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔رپورٹ میں سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی غیرحاضری کا بھی انکشاف کیا گیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق مری کے 14 فیصد اسکولوں میں اساتذہ ڈیوٹی سے غیر حاضر پائے گئے، جبکہ جھنگ میں 11 فیصد اساتذہ کی غیرحاضری رپورٹ ہوئی۔
اس کے علاوہ بہاولپور، اوکاڑہ، وزیرآباد، قصور اور راجن پور کے 10 فیصد اساتذہ بھی ڈیوٹی سے غیر حاضر پائے گئے۔رپورٹ کے مطابق راجن پور، حافظ آباد، مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان اور چکوال کے 9 فیصد اساتذہ بھی اسکولوں سے غیر حاضر رہے۔
PMIU کی رپورٹ نے پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور مانیٹرنگ کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایک جانب صوبے میں تعلیمی معیار بہتر بنانے اور سرکاری اسکولوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تو دوسری جانب متعدد اسکولوں میں طلبہ کے لیے فرنیچر، ٹوائلٹس اور صاف ستھرا ماحول جیسی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں ہو رہیں۔
رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں صورتحال یکساں نہیں، تاہم جنوبی پنجاب سمیت متعدد علاقوں میں بنیادی سہولیات کی کمی نسبتاً زیادہ نمایاں ہے۔ اساتذہ کی غیرحاضری کے اعداد و شمار بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صرف انفراسٹرکچر ہی نہیں بلکہ اسکولوں میں عملے کی حاضری اور مانیٹرنگ بھی ایک اہم چیلنج ہے۔
PMIU کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، صفائی کے انتظامات اور اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت مزید واضح ہوگئی ہے۔













