وزیراعلیٰ مریم نواز شریف چین کے 4 روزہ سرکاری دورے پر روانہ، دورے میں کن اہم معاہدوں پر بات ہو گی ؟

لاہور ( پنجاب پوسٹ ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف چین کے چار روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہوگئیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے دورہ چین کا مقصد پنجاب اور چین کے صوبوں کے درمیان باہمی تعاون، اقتصادی روابط اور مختلف شعبوں میں شراکت داری کو مزید فروغ دینا ہے۔

چین روانگی کے موقع پر چینی قونصل جنرل سن یان بھی ایئرپورٹ پر موجود تھے اور انہوں نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو الوداع کیا۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف چین کے شہر ارمچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پہنچیں گی، جہاں چین کے اعلیٰ حکام ان کا استقبال کریں گے۔ دورے کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز شریف چین کے سرکاری مہمان کی حیثیت سے شن جیانگ اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں قیام کریں گی۔

چین پہنچنے کے بعد وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اپنی مصروفیات کا آغاز شن جیانگ اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس کے کانفرنس سینٹر، کنلن ہال سے کریں گی۔

دورے کے پہلے مرحلے میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے شن جیانگ کے پارٹی سیکرٹری چن شیاوجیانگ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی وفد ملاقات کرے گا۔ ملاقات میں پنجاب اور شن جیانگ کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون، باہمی روابط اور ترقیاتی امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے ڈپٹی پارٹی سیکرٹری شن جیانگ اویغور خودمختار علاقائی کمیٹی ہی ژونگ یو بھی ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور مستقبل میں تعاون کے امکانات پر گفتگو ہوگی۔

وزیراعلیٰ پنجاب شن جیانگ پروڈکشن اینڈ کنسٹرکشن کور (XPCC) کے وفد سے بھی اہم ملاقات کریں گی۔ اس ملاقات میں ترقیاتی منصوبوں، صنعتی شعبے، سرمایہ کاری اور مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔

دورہ چین کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اور پنجاب کے وفد کے اعزاز میں شن جیانگ اویغور خودمختار علاقائی کمیٹی کے ڈپٹی پارٹی سیکرٹری، پارٹی سیکرٹری اور پولیٹیکل کمشنر ہی ژونگ یو کی جانب سے خصوصی عشائیہ بھی دیا جائے گا۔

چار روزہ سرکاری دورے کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی مختلف اعلیٰ حکام اور اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں بھی ہوں گی، جن میں پنجاب اور چین کے درمیان اقتصادی، صنعتی، زرعی اور ترقیاتی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے امور زیرِ بحث آئیں گے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے دورہ چین کو پنجاب اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ دورے کے دوران باہمی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے اور موجودہ شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر توجہ دی جائے گی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے