اسلام آباد (پنجاب پوسٹ) بانی پی ٹی آئی عمران خان کو نجی اسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم کے بعد اڈیالہ جیل کے مزید قیدیوں نے بھی اسی نوعیت کے ریلیف کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا۔
حوالاتیوں اور قیدیوں نے سپریم کورٹ کے 18 اگست کے بانی پی ٹی آئی سے متعلق فیصلے کو بنیاد بناتے ہوئے طبی سہولیات اور نجی اسپتال میں علاج کی اجازت دینے کی استدعا کی ہے۔
درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں، اس لیے بیمار قیدیوں کے علاج کے لیے بھی ایک ہی اصول اپنانا ہوگا۔ درخواستوں میں عمران خان کی طرز پر میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور نجی اسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
پہلے درخواست گزار اویس الطاف ہیں، جو دفعہ 489 ایف کے مقدمے میں اڈیالہ جیل کے زیرِ سماعت قیدی ہیں۔ درخواست کے مطابق اویس الطاف ریمیٹک فیور، جوڑوں کی سوزش، کمر اور جوڑوں کے درد، سن ہونے اور بڑھے ہوئے سوزشی ٹیسٹوں کی شکایت میں مبتلا ہیں۔
اویس الطاف نے شفا انٹرنیشنل اور قائداعظم انٹرنیشنل اسپتال کے ماہرین پر مشتمل آزاد میڈیکل بورڈ بنانے کی استدعا کی ہے۔ درخواست میں نجی اسپتال منتقلی، مکمل طبی ٹیسٹ، ادویات، ممکنہ آپریشن اور فالو اَپ علاج فراہم کرنے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔
دوسرے درخواست گزار الیاس خان ہیں، جو قتل اور اقدامِ قتل کے مقدمے میں اڈیالہ جیل کے زیرِ سماعت قیدی ہیں۔
درخواست کے مطابق الیاس خان ہیموفیلیا اے، معدے سے خون بہنے اور خون کی شدید کمی کے باعث خطرناک شاک کا شکار ہیں۔ الیاس خان نے خون اور معدے کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ بنانے کی استدعا کی ہے۔
الیاس خان نے شفا انٹرنیشنل، قائداعظم انٹرنیشنل یا سہولت سے آراستہ کسی نجی اسپتال منتقل کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔













