حکومت نے ایسا کیا کام کیا کہ اب پاکستانیوں کے ڈیجیٹل اثاثے دنیا میں سب سے زیادہ محفوظ ہوجائیں گے؟

اسلام آباد (پنجاب پوسٹ) پاکستان نے ڈیجیٹل معیشت کے فروغ اور ورچوئل اثاثہ جات کے تحفظ کے لیے شفاف ریگولیٹری نظام متعارف کرا دیا، ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی نے لائسنسنگ ریگولیشنز جاری کرکے لائسنسنگ پورٹل بھی فعال کردیا۔

پاکستان نے 6 ماہ سے بھی کم عرصے میں ورچوئل اثاثہ جات کے لائسنسنگ نظام کی تشکیل مکمل کی ہے، جبکہ پاکستان میں موجودہ ورچوئل اثاثہ جات آپریٹرز 5 ستمبر تک لائسنس کے لیے درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں۔

ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 کے تحت جاری ضوابط میں لائسنس کی 10 مختلف کیٹیگریز متعارف کرائی گئی ہیں، جن میں ایکسچینج، بروکر ڈیلر، ایڈوائزری، قرض دینے اور لینے کی خدمات، مائننگ اور دیگر خدمات شامل ہیں۔

حکام کے مطابق لاکھوں پاکستانیوں کے ڈیجیٹل اثاثوں کو محفوظ بنانے کے لیے باقاعدہ قانونی ذمہ داریوں کے حامل پلیٹ فارم کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جبکہ سروس فراہم کرنے والوں کو لائسنس حاصل کرکے بینکاری نظام سے منسلک ہونے کی دعوت بھی دی گئی ہے۔

چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب کے مطابق پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کا قانون موجود ہے اور مقصد کرپٹو سمیت تمام سرگرمیوں کو قانون کے دائرے میں لانا ہے۔

بلال بن ثاقب کا کہنا ہے کہ ریگولیشن کا مطلب تحفظ دینا ہے، کرپٹو پہلے سے پاکستان میں موجود ہے، ہمارا کام اسے ریگولیٹ کرنا ہے۔

ان کے مطابق پاکستان کی ریگولیشن رجیم 5 ماہ میں تشکیل دی گئی، جبکہ یہ مکمل لائسنسنگ فریم ورک کئی ممالک کے پاس تاحال موجود نہیں۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ نئے قانونی فریم ورک سے غیرملکی کمپنیوں کے لیے بھی پاکستان میں کاروبار کے بہترین مواقع پیدا ہوگئے ہیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے