لاہور: پیپلز پارٹی کا بلدیاتی نظام میں بیوروکریٹک مداخلت پر شدید ردعمل، آرٹیکل 140-اے کی خلاف ورزی کا الزام

لاہور(پنجاب پوسٹ) لاہور میں پنجاب کے بلدیاتی نظام میں کی جانے والی حالیہ تبدیلیوں پر سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی نے صوبائی حکومت پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ اس نے منتخب مقامی نمائندوں کے اختیارات چھین کر بیوروکریسی کو بااختیار بنا دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے اس اقدام کو آئین کی کھلی خلاف ورزی اور جمہوری اصولوں سے صریح انحراف قرار دیا ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان پیپلز پارٹی لاہور کے نائب صدر اذین گلزار خان نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقامی حکومتوں کے موجودہ نظام سے متعلق اپنی جماعت کے تحفظات کھل کر بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ضلعی حکومت اور میئر کے دفاتر کو غیر فعال کر کے مقامی سطح پر منتخب نمائندوں کے اختیارات ختم کر دیے ہیں اور انتظامی امور دوبارہ ڈپٹی کمشنرز جیسے غیر منتخب سرکاری افسران کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ اذین گلزار خان کے مطابق جب کسی شہر یا ضلع کے فیصلے عوام کے منتخب نمائندوں کے بجائے بیوروکریٹک افسران کرنے لگیں تو یہ نظام جمہوری کم اور انتظامی کنٹرول زیادہ بن جاتا ہے۔

نائب صدر پیپلز پارٹی لاہور نے مزید کہا کہ یہ معاملہ محض ایک قانونی یا انتظامی نوعیت کا مسئلہ نہیں بلکہ عوامی نمائندگی اور جمہوری شناخت سے جڑا ایک بنیادی سوال ہے۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل ایک سو چالیس اے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین اس بات کی صراحت کرتا ہے کہ صوبے ایسا مقامی حکومتی نظام قائم کریں جس میں سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داری اور اختیارات منتخب مقامی حکومتوں کو منتقل کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اس اصول پر قائم ہے کہ مقامی حکومتیں جمہوریت کی بنیادی اکائی ہیں اور ان کا بااختیار ہونا آئینی تقاضا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر منتخب بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کے بجائے ان کے اختیارات انتظامی افسران کو منتقل کیے جاتے رہے تو یہ آئین کی خلاف ورزی کے مترادف ہو گا اور مقامی سطح پر جوابدہی کا نظام مزید کمزور پڑ جائے گا۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اس معاملے کو آئینی اور جمہوری اصولوں کی روشنی میں مسلسل اٹھاتی رہے گی اور مقامی حکومتوں کے اختیارات کی بحالی کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی۔

اسی ضمن میں ایک الگ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پاکستان پیپلز پارٹی احمد رحمان گھمن نے کہا کہ پنجاب حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان یہ اتفاق طے پا چکا ہے کہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات پندرہ دسمبر دو ہزار چھبیس سے پندرہ جنوری دو ہزار ستائیس کے دوران منعقد کرائے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت کے کسی حربے میں نہیں آئے گی اور اپنی جماعت کو ہر قسم کی سیاسی چال بازی سے محفوظ رکھے گی۔

احمد رحمان گھمن نے کہا کہ ان کی جماعت کو اب بھی مسلم لیگ ن کی نیت پر شدید شکوک و شبہات ہیں، کیونکہ ماضی کے تجربات کے پیش نظر یہ خدشہ موجود ہے کہ حکمران جماعت بلدیاتی انتخابات کے راستے میں دوبارہ کوئی روڑا اٹکا سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں آزاد کشمیر کے انتخابات جیسی صورتحال کو دہرانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن پنجاب میں بھی بلدیاتی انتخابات کو مرحلہ وار کرا کر دھاندلی کے ذریعے جیتنے کی کوشش کرنا چاہتی ہے، تاہم پیپلز پارٹی اس منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کے منہ کو دھاندلی لگ چکی ہے اور صاف، شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات دراصل اس جماعت کی سیاسی موت کے مترادف ہیں۔ انہوں نے فارم سینتالیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے اقتدار میں آنے والے عناصر ملک کو دوبارہ انیس سو سینتالیس کے دور میں لے جانا چاہتے ہیں۔

ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی انتخابی اصلاحات کی خواہاں ہے اور کسی کو بھی انتخابی عمل میں سرکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بلدیاتی انتخابات میں مسلم لیگ ن کو سرپرائز دیا جائے گا اور اب انہیں انتخابی کھانچے لگانے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پنجاب میں صاف، شفاف اور غیر جانبدارانہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔

اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات حسن عباس، آفس سیکرٹری عاطف کھوکھر اور راشد بیگ بھی موجود تھے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے