حافظ آباد(پنجاب پوسٹ) نواحی گاؤں ادھوکی میں قبرستان کی مبینہ اراضی پر قبضے اور گھروں کی تعمیر کا معاملہ سنگین، اہلِ علاقہ نے قبرستان کا رقبہ واگزار کرانے اور معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیافریقین کی جانب سے متنازعہ رقبے کی ملکیت کے حوالے سے متضاد مؤقف سامنے آئے ہیں،
جبکہ پٹواری، قانونگو اور تحصیلدار کی سابقہ و حالیہ رپورٹس میں بھی رقبے اور مبینہ قبضے سے متعلق اہم نکات سامنے آئے ہیں۔ایک فریق زمین کو ذاتی ملکیت قرار دیتا ہے، جبکہ دوسرے فریق کی جانب سے رقبے کو قبرستان کی حدود کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے باعث معاملے کی اصل قانونی حیثیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اہلِ علاقہ کا مطالبہ ہے کہ محکمۂ مال کے اصل ریکارڈ کی روشنی میں موقع کی غیرجانبدارانہ پیمائش اور نشاندہی کروا کر حقائق واضح کیے جائیں، جبکہ موقع پر فریقین کے بیانات اور صورتحال کی آڈیو، ویڈیو ریکارڈنگ بھی موجود ہے۔
اہل علاقہ نے ڈپٹی کمشنر حافظ آباد عبدالرازق سے مطالبہ کیا ہے کہ قبرستان کی اراضی پر قبضہ ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے رقبہ واگزار کروایا جائے ۔










