لاہور( پنجاب پوسٹ ) ڈائریکٹر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) پنجاب محمد علی وسیم کی ہدایت پر خواتین کو آن لائن ہراساں، بلیک میل اور قابلِ اعتراض تصاویر کے ذریعے بلیک میل کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ لاہور، گوجرانوالہ، ملتان اور فیصل آباد میں مختلف کارروائیوں کے دوران 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
لاہور
این سی سی آئی اے حکام کے مطابق لاہور میں کارروائی کرتے ہوئے خاتون کو شادی کے لیے دباؤ ڈالنے اور انکار کی صورت میں تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکیاں دینے والے ملزم قیصر کو گرفتار کیا گیا۔ ملزم کے خلاف خاتون کی شکایت پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔
گوجرانوالہ
این سی سی آئی اے نے خواتین کو قابلِ اعتراض تصاویر کے ذریعے بلیک میل کرنے اور رقم ہتھیانے کے الزام میں محمد مزمل اور علی اصغر کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق ملزمان نے ایک خاتون کو بلیک میل کرکے مبینہ طور پر 2 لاکھ روپے وصول کیے تھے۔ کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے یو کے واٹس ایپ نمبر، 3 موبائل فونز اور رقم کی منتقلی سے متعلق اہم ڈیجیٹل شواہد برآمد کیے گئے۔
ملتان
سائبر کرائم کے خلاف کارروائی میں خاتون کا قابلِ اعتراض مواد واٹس ایپ پر شیئر کرنے اور اس کے اہلخانہ کو ہراساں کرنے کے الزام میں محمد تنویر کو گرفتار کیا گیا۔ حکام نے ملزم کے زیرِ استعمال ڈیجیٹل ڈیوائسز اور دیگر شواہد بھی قبضے میں لے لیے۔
فیصل آباد
این سی سی آئی اے نے تصاویر حذف کرنے کے عوض 5 لاکھ روپے بھتہ طلب کرنے والے ملزم خیر حیات کو گرفتار کر لیا۔ ملزم پر الزام ہے کہ اس نے خاتون کی تصاویر کو بنیاد بنا کر رقم کا مطالبہ کیا اور تصاویر پھیلانے کی دھمکیاں دیں۔
حکام کے مطابق تمام کارروائیوں کے دوران ملزمان کے زیرِ استعمال موبائل فونز، واٹس ایپ اکاؤنٹس اور دیگر اہم ڈیجیٹل شواہد تحویل میں لے لیے گئے ہیں، جنہیں تحقیقات کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
ڈائریکٹراین سی سی آئی اے پنجاب محمد علی وسیم نے کہا ہے کہ خواتین کو آن لائن ہراساں اور بلیک میل کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔ خواتین کی عزت، رازداری اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سائبر کرائم کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔












