لاہور، گریٹر اقبال پارک میں نو عمر لڑکی نو سرباز خاتون کے ہاتھ لگتے لگتے بچ گئی، لیڈی پولیس اہلکار کو کیا کہانی سنائی؟

لاہور( پنجاب پوسٹ ) موبائل فون پر ہونے والی دوستی کے بعد شیخوپورہ سے لاہور پہنچنے والی نو عمر لڑکی کو ڈولفن فرینڈلی پٹرولنگ یونٹ نے گریٹر اقبال پارک سے حفاظتی تحویل میں لے لیا۔

ڈولفن پولیس کے ترجمان کے مطابق ایف پی یو ٹیم معمول کی پٹرولنگ پر تھی کہ گریٹر اقبال پارک میں ایک مشکوک خاتون کو نو عمر لڑکی کے ہمراہ جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ پولیس کے مطابق لڑکی بے یار و مددگار حالت میں تھی جبکہ مشکوک خاتون اسے اپنے ہمراہ لے جانے کی کوشش کر رہی تھی۔

ڈولفن ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے لڑکی کو حفاظتی تحویل میں لے لیا۔ حرم فاطمہ نامی لڑکی نے ایف پی یو ٹیم کی لیڈی پولیس اہلکار کو شیخوپورہ سے لاہور پہنچنے تک پیش آنے والے واقعات سے آگاہ کیا۔

پولیس کے مطابق حرم فاطمہ کے مبینہ اغوا کا مقدمہ پہلے ہی تھانہ صدر شیخوپورہ میں درج ہے۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر ڈولفن ٹیم نے فوری طور پر کوٹ رنجیت گاؤں میں لڑکی کے والدین سے رابطہ کیا۔

والدین اور شیخوپورہ پولیس کے لاہور پہنچنے تک لڑکی کو تحفظ مرکز لاری اڈا منتقل کرکے حفاظتی تحویل میں رکھا گیا، جبکہ مشکوک خاتون کو ضروری قانونی کارروائی کے لیے لاری اڈا تحفظ مرکز کے حوالے کردیا گیا۔

ایس پی ڈولفن بلال احمد نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر خصوصی نظر رکھیں اور انہیں موبائل فون اور سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے آگاہی دیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں پر بے جا سختی کے بجائے ان کے ساتھ دوستانہ رویہ اپنایا جائے تاکہ وہ کسی مشکل صورتحال میں بلا جھجھک والدین سے بات کرسکیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے