لاہور(پنجاب پوسٹ) سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی سے 47ویں مڈکیریئر مینجمنٹ کورس کے افسران نے ملاقات کی، اس موقع پر افسران کو لاہور کے ٹریفک نظام، انفراسٹرکچر، اسمارٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم، ڈیجیٹل و ای چالاننگ سمیت مختلف امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
سی ٹی او لاہور نے وفد کو لائسنسنگ، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور سروس انفراسٹرکچر کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ سید عبدالرحیم شیرازی کا کہنا تھا کہ لاہور کی آبادی تقریباً 15 ملین ہے جبکہ شہر میں 15 سو کلومیٹر سے زائد رقبے پر ٹریفک کا نظام پھیلا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور میں 83 لاکھ سے زائد گاڑیوں کو رواں دواں رکھنا کسی چیلنج سے کم نہیں، تاہم مؤثر ٹریفک مینجمنٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ٹریفک فلو میں واضح بہتری آئی ہے۔
سی ٹی او لاہور کے مطابق زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت ہیلمٹ انفورسمنٹ 97 فیصد جبکہ لین لائن کی پابندی 70 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس کے نتیجے میں ہیڈ انجری کے کیسز میں 40 فیصد کمی ہوئی ہے۔
سید عبدالرحیم شیرازی نے کہا کہ پولیس سروسز کی فراہمی، ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی اور مؤثر انفورسمنٹ اولین ترجیحات ہیں۔ ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد کے باعث حادثات میں بھی واضح کمی ہوئی ہے جبکہ ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے رجحان میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ٹریفک کنجشنز سے متعلق موصول ہونے والی کالز میں نمایاں کمی ٹریفک فلو میں بہتری کا واضح ثبوت ہے۔ ورلڈ ٹریفک انڈیکس رپورٹ کے مطابق لاہور کا ٹریول ٹائم دنیا کے 149 ترقی یافتہ شہروں کے مقابلے میں بہتر ہے۔
بریفنگ کے اختتام پر سی ٹی او لاہور نے مڈکیریئر مینجمنٹ کورس کے افسران کے مختلف سوالات کے جوابات دیے۔ وفد نے شہریوں کی سہولت اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے لاہور ٹریفک پولیس کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو سراہا۔










