حلقہ بندیاں نقشے پر حدود کھیچنے کا نام نہیں، مقصد ووٹ کا تحفظ ہے، جسٹس جواد حسن نے ملتان کی یونین کونسلز کی حد بندی کا فیصلہ جاری کردیا

ملتان(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ نے ملتان کی یونین کونسلز نمبر 3 اور 4 کی حلقہ بندی کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روک دیا ہے۔ جسٹس جواد حسن نے محمد ندیم کی درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سمیت دیگر فریقین کو 25 اگست تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

عدالت نے قرار دیا کہ حلقہ بندی ووٹ کے حق کے تحفظ اور انتخابی عمل کی شفافیت کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ جسٹس جواد حسن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ حلقہ بندی محض نقشے پر حدود کھینچنے کا عمل نہیں بلکہ اس کا بنیادی مقصد ووٹ کے حق کو تحفظ دینا ہے۔

فیصلے کے مطابق ووٹ کی قدر میں عدم مساوات پیدا کرنے یا کسی سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت میں حلقہ بندی کرنے سے گریز ضروری ہے۔

درخواست گزار نے 29 جولائی 2026 کو جاری ڈیلیمیٹیشن اتھارٹی کے حکم کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل کے مطابق مقررہ مدت گزرنے کے بعد حلقہ بندی پر اعتراضات دائر کیے گئے۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ قانون کے تحت اعتراضات دائر کرنے کے لیے 15 روز کی مہلت مقرر تھی، جبکہ ریکارڈ کے مطابق اعتراضات دائر کرنے کی مدت 9 جون کو ختم ہوگئی تھی۔ اس کے باوجود فریق نمبر 7 نے 17 جون کو اعتراضات دائر کیے۔

درخواست گزار کے وکیل کے مطابق ڈیلیمیٹیشن اتھارٹی نے مقررہ مدت گزرنے کے بعد دائر کیے گئے اعتراضات قبول کرتے ہوئے حلقہ بندی میں تبدیلی کردی۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ ڈیلیمیٹیشن اتھارٹی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

عدالت نے معاملے پر فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے 25 اگست تک سماعت ملتوی کردی اور اس دوران متعلقہ حلقہ بندی کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روک دیا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے