اے سی کا پائپ چوری کرنے کا الزام، جنرل ہسپتال کے ایم ایس نے سنے بغیر ملازمت سے نکالا، لاہور ہائیکورٹ نے سیکورٹی گارڈ کی نوکری بحال کرنے کا حکم دے دیا

لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ نے جنرل ہسپتال کے سکیورٹی گارڈ شفیق خوشنود کو دوبارہ ملازمت پر بحال کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار کو محکمانہ انکوائری میں قانون اور متعلقہ رولز کے مطابق مناسب وقت فراہم نہیں کیا گیا، جبکہ اسے ملازمت سے برطرف کرنے کے معاملے میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

جسٹس ملک محمد اویس خالد نے شفیق خوشنود کی درخواست منظور کرتے ہوئے گیارہ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت کے مطابق درخواست گزار کے خلاف آرتھو پیڈک وارڈ کا اے سی کا پائپ چوری کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

درخواست گزار کے مطابق جنرل ہسپتال کے ایم ایس نے اسے شوکاز نوٹس جاری کیا، جس کا اس نے باقاعدہ جواب جمع کروایا اور اپنے خلاف عائد الزامات کو مسترد کر دیا۔ تاہم، درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ محکمانہ کارروائی میں اسے اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے قواعد کے مطابق مناسب موقع فراہم نہیں کیا گیا۔

عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ ایم ایس کی جانب سے رسمی کارروائی مکمل کرتے ہوئے ملازمت سے برطرف کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست گزار نے 2024 میں پنجاب سروس ٹربیونل سے بھی رجوع کیا تھا، تاہم سروس ٹربیونل نے قرار دیا کہ یہ معاملہ اس فورم کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ درخواست گزار کو ملازمت پر بحال کیا جائے۔ عدالت نے ساتھ ہی واضح کیا کہ متعلقہ مجاز اتھارٹی کو قانون کے مطابق درخواست گزار کے خلاف باقاعدہ انکوائری کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

عدالت نے درخواست گزار کے بقایا جات اور دیگر ملازمت سے متعلق فوائد کے معاملے کا فیصلہ بھی متعلقہ مجاز اتھارٹی پر چھوڑ دیا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے