بانی تحریک انصاف کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جا سکتا،‏سپریم کورٹ کے فیصلے پر دائر حکومتی نظرثانی درخواست کا مکمل اردو ترجمہ کیا ہے؟

اسلام آباد(پنجاب پوسٹ)حکومت کی جانب سے اسلام آباد کے چیف کمشنر کے ذریعے دائر کی گئی نظرِثانی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سزا یافتہ قیدی کو طبی علاج کے لیے ہسپتال منتقل کرنے کا معاملہ پاکستان جیل رولز 1978 کے تحت طے ہوتا ہے، جس میں قیدی کو جیل سے باہر ہسپتال منتقل کرنے کے لیے واضح طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔


حکومتی درخواست میں جیل رولز کے قاعدہ 197 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آپریشن یا ایسے خصوصی علاج کے لیے قیدی کو جیل سے باہر منتقل کرنے کی صورت میں، جہاں ہسپتال میں داخلہ ضروری ہو، حکومت کی منظوری انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کے ذریعے حاصل کرنا لازم ہے۔ تاہم ہنگامی صورتحال میں جیل سپرنٹنڈنٹ کو پیشگی کارروائی کا اختیار حاصل ہے، جس کی فوری رپورٹ انسپکٹر جنرل کے ذریعے حکومت کو دینا ہوتی ہے۔


درخواست کے مطابق اگر قیدی کو صرف آؤٹ پیشنٹ علاج، ایکسرے یا طبی معائنے کے لیے ہسپتال لے جانا ہو تو جیل سپرنٹنڈنٹ خود اس کی اجازت دے سکتا ہے، تاہم کسی دوسرے شہر یا اسٹیشن کے ہسپتال منتقل کرنے کے لیے انسپکٹر جنرل کے احکامات پیشگی حاصل کرنا لازمی ہیں۔؎

WhatsApp Image 2026 08 19 at 3.10.54 PM


حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ قانونی شق عدالت کی نظر سے اوجھل رہی، جس کے باعث عدالتی حکم میں ریکارڈ پر نمایاں غلطی واقع ہوئی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگر عدالت جیل رولز کی مذکورہ شق کا نوٹس لیتی تو زیرِ نظر حکم جاری نہ کیا جاتا، اس لیے معاملہ نظرِثانی کا مستحق ہے۔

درخواست میں آئین کے آرٹیکل 10-A کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہر شخص کو منصفانہ ٹرائل اور قانونی عمل کا حق حاصل ہے۔ حکومت کے مطابق زیرِ بحث فوجداری اپیل پہلی مرتبہ سماعت کے لیے مقرر ہوئی تھی، لیکن اس مرحلے پر نہ تو بینچ کی جانب سے سماعت کا نوٹس جاری کیا گیا اور نہ ہی عدالت نے اپیل کی اجازت دی۔


حکومت نے مزید مؤقف اپنایا کہ اپیل کے قابلِ سماعت ہونے پر بھی اہم قانونی سوالات موجود تھے، جن کی نشاندہی عدالت میں موجود قانونی افسر نے بھی کی، تاہم عدالت نے اس معاملے کو مؤخر کرتے ہوئے ایک رپورٹ کی بنیاد پر بظاہر یہ رائے قائم کی کہ فریقِ مخالف کی صحت بگڑ رہی ہے، جبکہ حکومتی درخواست کے مطابق رپورٹ میں ایسی کوئی بات موجود نہیں تھی۔


نظرِثانی درخواست میں سپریم کورٹ کے طے شدہ اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عبوری مرحلے پر عدالت صرف عبوری نوعیت کا ریلیف دے سکتی ہے، حتمی نوعیت کا ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔

WhatsApp Image 2026 08 19 at 3.10.53 PM


حکومت کے مطابق زیرِ نظر عدالتی حکم میں فریقِ ثانی کی جانب سے آنکھوں کے علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی، ذاتی معالجین تک رسائی، طبی معائنے اور علاج کے دوران خاندان کو اطلاع و رسائی اور طبی رپورٹس کی مصدقہ نقول فراہم کرنے سمیت چاروں مطالبات منظور کر لیے گئے۔


درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان تمام مطالبات کو عبوری اقدام کے طور پر مکمل طور پر منظور کرنے سے عدالت نے فریقِ ثانی کو نوٹس دیے بغیر ہی ابتدائی مرحلے پر عملاً پورے مقدمے کا فیصلہ کر دیا، جبکہ اب فیصلے یا مزید عدالتی کارروائی کے لیے کچھ باقی نہیں رہا۔


حکومت نے آئین کے آرٹیکل 25 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین تمام شہریوں کو مساوی سلوک کا بنیادی حق دیتا ہے اور امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دیتا۔ درخواست کے مطابق کسی سزا یافتہ قیدی کو ایسی رپورٹ کی بنیاد پر اپنی پسند کے نجی ہسپتال میں علاج کی سہولت دینا، جس میں فوری طبی امداد کی ضرورت ظاہر نہ کی گئی ہو، فوجداری انصاف کے نظام کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔


حکومت کا کہنا ہے کہ اگر یہ حکم واپس نہ لیا گیا تو دیگر قیدی بھی اسی نوعیت کی رعایت کا مطالبہ کر سکتے ہیں، جس سے جیل قوانین کے اطلاق میں مشکلات پیدا ہوں گی اور خصوصی سہولتوں کے حصول کے لیے ایسے قیدیوں کی بڑی تعداد سامنے آ سکتی ہے۔

نظرِثانی درخواست میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ فوجداری پی ایل اے میں فریقِ مخالف دراصل ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر، اسلام آباد ہے اور زیرِ نظر حکم جاری ہونے سے قبل درخواست گزار نہ تو مقدمے کا فریق تھا اور نہ ہی اسے کوئی نوٹس جاری کیا گیا۔ حکومت کے مطابق صرف اس بنیاد پر بھی عدالتی حکم واپس لیا جانا چاہیے کیونکہ یہ انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔


حکومت نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ قانونی اور آئینی نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے زیرِ بحث عبوری حکم پر نظرِثانی کی جائے اور اسے واپس لیا جائے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سماعت کے دوران حکومت اضافی قانونی نکات بھی پیش کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے