لاہور ( پنجاب پوسٹ ) وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حلقے میں قائم سکول آف ایمیننس کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سکولوں میں فراہم کی جانے والی تعلیمی سہولیات، جدید لیبارٹریز، انفراسٹرکچر اور طلبہ کے لیے دستیاب دیگر سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر وزیر تعلیم نے وزیر اعلیٰ مریم نواز کے حلقے میں مزید 6 سکول آف ایمیننس اور 2 دانش سکول شروع کرنے کا اعلان بھی کیا۔
رانا سکندر حیات نے کہا کہ حکومت پنجاب کا مقصد سرکاری سکولوں میں طلبہ کو مفت اور معیاری تعلیم کے ساتھ جدید تعلیمی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ سکول آف ایمیننس کے قیام سے سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم کے معیار اور انفراسٹرکچر میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اب والدین کو اس بات کی فکر نہیں ہونی چاہیے کہ سکول کھلنے پر بھاری فیسیں کیسے ادا کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں : پنجاب میڈیکل فیکلٹی نے امتحانی نظام میں اہم تبدیلی کا فیصلہ، نیا طریقہ کار کیا ہوگا؟
وزیر تعلیم نے امیر جماعت اسلامی کی جانب سے پنجاب کے تعلیمی ماڈل پر کی جانے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہیں سکول آف ایمیننس کا دورہ کرنے اور وہاں موجود تعلیمی معیار اور انفراسٹرکچر کا جائزہ لینے کا چیلنج دیا۔ انہوں نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی پہلے ہمارا تعلیمی ماڈل، معیار اور انفراسٹرکچر دیکھیں، اس کے بعد اس پر بات کریں۔
رانا سکندر حیات نے کہا کہ جماعت اسلامی کے سربراہ نے شاید زندگی میں ایسے روبوٹکس ماڈلز نہیں دیکھے ہوں گے جو سرکاری سکولوں کے بچے تیار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سکول آف ایمیننس میں طلبہ کو جدید تعلیم کے ساتھ عملی اور تکنیکی مہارتوں کے مواقع بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس معیار کی تعلیم سرکاری سکولوں میں فراہم کی جا رہی ہے، اس لیول کی کوالٹی ایجوکیشن شاید جماعت اسلامی کے اپنے تعلیمی اداروں میں بھی کسی کو میسر نہ آئی ہو۔ وزیر تعلیم نے امیر جماعت اسلامی کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے کسی ایک سکول آف ایمیننس کا مقابلہ ان کے کسی بھی تعلیمی ادارے سے کر کے دکھایا جائے۔
وزیر تعلیم نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی سے وابستہ بعض ادارے بھی پنجاب کے تعلیمی ماڈل سے متاثر ہو رہے ہیں اور اسے اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے امیر جماعت اسلامی کو دعوت دی کہ وہ اپنے بچوں کو بھی سرکاری سکولوں میں داخل کروائیں، حکومت انہیں مفت اور معیاری تعلیم فراہم کرے گی۔
رانا سکندر حیات نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی کو چاہیے کہ وہ سکول آف ایمیننس کے طلبہ سے ملاقات کریں اور خود ان سے ان کے تعلیمی تجربات کے بارے میں رائے لیں، اس کے بعد انہیں سرکاری سکولوں میں ہونے والی تبدیلی کا اندازہ ہو جائے گا۔
وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ گزشتہ 71 سال سے ملک کے تعلیمی نظام کو مختلف طریقوں سے بہتر بنانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں، لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے پر اب نظام میں بنیادی نوعیت کی اصلاحات اور سرجری کی ضرورت محسوس ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس دہندگان کے پیسے کو دانشمندی سے استعمال کر رہی ہے اور تعلیمی شعبے میں وسائل کو جدید سہولیات کی فراہمی پر خرچ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سکول آف ایمیننس کے قیام کے بعد بڑے نجی تعلیمی ادارے بھی حکومت کے ماڈل اور انفراسٹرکچر کو فالو کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق کسی نجی ادارے کے پاس سکول آف ایمیننس جیسی لیبارٹریز اور انفراسٹرکچر موجود نہیں، جس سے سرکاری سکولوں میں فراہم کی جانے والی سہولیات کے معیار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
رانا سکندر حیات نے کہا کہ سکول آف ایمیننس ہر بچے کا بنیادی حق تھا اور حکومت یہ حق بچوں کو فراہم کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معیاری تعلیم صرف صاحبِ استطاعت خاندانوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہر بچے کو یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔
وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب آئندہ ڈھائی سال کے دوران ایسے مزید معیاری سکول قائم کرنے کے لیے کام کرے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ تعلیم کی کارکردگی میں مزید بہتری لائی جائے گی اور سرکاری سکولوں میں تعلیم کا معیار مسلسل بلند کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مینڈیٹ معیاری اور مفت تعلیم کی فراہمی ہے اور محکمہ تعلیم اسی مقصد کے لیے کام کر رہا ہے۔ رانا سکندر حیات کے مطابق پنجاب میں سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر ہو رہی ہے، اس لیے اب نجی تعلیمی ماڈل کو بھی اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہیے۔










