لاہور(پنجاب پوسٹ) وزیراعلیٰ پنجاب کے سخت احکامات اور شہریوں کی شکایات کے فوری ازالے کی ہدایات کے باوجود پنجاب پولیس کی کارکردگی کے حوالے سے شکایات میں اضافہ سامنے آیا ہے۔ رواں سال کے پہلے 7 ماہ کے دوران پولیس کے خلاف 84 ہزار 500 سے زائد شکایات درج ہوئیں، جن میں مقدمات کا عدم اندراج، ناقص تفتیش، اختیارات سے تجاوز، کرپشن اور رشوت ستانی سمیت دیگر معاملات شامل ہیں۔
اعدادوشمار کے مطابق سب سے زیادہ مقدمات کے عدم اندراج سے متعلق شکایات موصول ہوئیں۔ اس نوعیت کی تقریباً 39 ہزار شکایات درج ہوئیں، جن میں سے 37 ہزار 500 سے زائد شکایات کو حل کیا گیا۔
ناقص تفتیش کے حوالے سے تقریباً 19 ہزار 300 شکایات درج ہوئیں، جن میں سے 17 ہزار 600 شکایات کا ازالہ کیا گیا۔ ناقص تفتیش سے متعلق شکایات میں ریکوری نہ ہونا، ملزمان کی گرفتاری میں تاخیر یا عدم گرفتاری، غلط تفتیش، اشتہاری ملزمان کی گرفتاری اور تفتیش کی تبدیلی سمیت دیگر معاملات شامل رہے۔
پولیس اہلکاروں کی جانب سے کرپشن اور رشوت وصولی سے متعلق بھی 14 ہزار 700 شکایات درج ہوئیں، جن میں سے تقریباً 13 ہزار 500 شکایات کو حل کیا گیا۔
اعدادوشمار کے مطابق پولیس سروسز سے متعلق 6 ہزار 400 شکایات بھی درج ہوئیں، جبکہ پولیس کے اپنے ملازمین اور افسران کے خلاف 470 شکایات موصول ہوئیں۔
پنجاب پولیس کے آئی جی کمپلینٹ سیل میں موصول ہونے والی مجموعی درخواستوں میں سے 94 فیصد درخواستوں کو حل کیا جا چکا ہے، جبکہ 6 فیصد درخواستیں تاحال زیرِ التوا ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے آئی جی پنجاب کو شہریوں کی شکایات کے بروقت ازالے کے لیے معاملات کی خود نگرانی کرنے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔ تاہم سات ماہ کے دوران سامنے آنے والی ہزاروں شکایات پولیس کے نظامِ تفتیش، مقدمات کے اندراج اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی پولیس سروسز پر سوالات اٹھا رہی ہیں۔











