لاہور ( پنجاب پوسٹ ) مسلم یوتھ لیگ پاکستان نے عالمی یوم نوجوان اور جشنِ آزادی کی مناسبت سے ملک کے نوجوانوں کے معاشی، سیاسی، تعلیمی اور سماجی حقوق کے لیے سات نکاتی یوتھ ڈیکلریشن 2026جاری کر دیا۔
مسلم یوتھ لیگ پاکستان کے زیر اہتمام عالمی یوم نوجوان کے حوالے سے تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں نوجوان صحافیوں، کارکنان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ تقریب میں نوجوانوں کو درپیش مسائل، انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے اور ملک کی ترقی میں ان کے کردار کو مؤثر بنانے کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلم یوتھ لیگ پاکستان کے صدر تابش قیوم نے کہا کہ نوجوان پاکستان کے بقا اور ترقی کے ہراول دستے ہیں، اس لیے ان کے مسائل کو نظرانداز کرنے کے بجائے ان کی آواز سنی اور مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : پنجاب بدل رہا ہے، پنجاب کے شہر اور دیہات ری فارم ہورہے ہیں، مریم نواز شریف
انہوں نے کہا کہ مسلم یوتھ لیگ پاکستان کے یوتھ ڈیکلریشن 2026 میں نوجوانوں کے سیاسی اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے مختلف مطالبات پیش کیے گئے ہیں۔ ڈیکلریشن میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نوجوانوں کے لیے مخصوص نشستیں مختص کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ نوجوان براہِ راست پارلیمانی اور سیاسی عمل کا حصہ بن سکیں اور ملکی پالیسی سازی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
تابش قیوم نے کہا کہ ملک کے تمام گریجویٹس کے لیے قومی پیڈ انٹرن شپ پروگرام شروع کیا جائے، تاکہ تعلیم مکمل کرنے والے نوجوانوں کو عملی میدان میں داخل ہونے کے لیے تجربہ اور روزگار کے بہتر مواقع میسر آسکیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو تعلیم کے بعد روزگار کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کے لیے حکومت کو عملی اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
مسلم یوتھ لیگ کے صدر نے نوجوانوں کے لیے بلا سود کاروباری قرضوںکی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے اور اپنے لیے روزگار پیدا کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ ان کے مطابق نوجوانوں کی معاشی خودمختاری ملک کی مجموعی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
تابش قیوم نے کہا کہ ملک کی 65 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوںپر مشتمل ہے، اس بڑی آبادی کو نظرانداز کرکے حقیقی ترقی اور خوشحالی کا حصول ممکن نہیں۔ نوجوانوں کے مسائل کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے تعلیمی اداروں سے منشیات کے خاتمے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے تعلیمی اداروں، والدین، سول سوسائٹی اور ریاستی اداروں کو مشترکہ طور پر اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مثبت اور صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے یونین کونسل کی سطح پر کھیلوں کے میدان بحال کیے جائیں۔ کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی سے نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کے مواقع ملنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں مثبت رویوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
یوتھ ڈیکلریشن 2026 میں ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے کے لیے ہر یونین کونسل میں شجرکاری کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ مسلم یوتھ لیگ کے مطابق اس مہم کا عملی آغاز گوجرانوالہ سے کر دیا گیا ہے، جسے ملک کے دیگر علاقوں تک بھی وسعت دی جائے گی۔
تابش قیوم نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے صرف اعلانات کافی نہیں بلکہ ان مطالبات کو عملی شکل دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سیاسی اور ریاستی اداروں سے اپیل کی کہ یوتھ ڈیکلریشن 2026 میں پیش کیے گئے مطالبات پر فوری عمل درآمد کیا جائے تاکہ ملک کی نوجوان آبادی کو سیاسی، معاشی اور سماجی ترقی کے یکساں مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
مسلم یوتھ لیگ پاکستان کے ترجمان زمان سیف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یوتھ ڈیکلریشن 2026 کا مقصد نوجوانوں کو قومی ترقی کے دھارے میں مؤثر طور پر شامل کرنا اور ان کے بنیادی معاشی، سیاسی، تعلیمی اور سماجی حقوق کے لیے آواز اٹھانا ہے۔













