"مزید انتظار کریں”، شاہ محمود قریشی اور اعجاز چوہدری کی درخواست ضمانت پر وکلا کی عدم پیشی، عدالت نے درخواستیں انتظار میں رکھ لیں

لاہور ( پنجاب پوسٹ ) انسداد دہشتگردی عدالت میں نو مئی کے مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماؤں اعجاز چوہدری اور شاہ محمود قریشی کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ انسداد دہشتگردی عدالت کے جج منظر علی گل نے دونوں رہنماؤں کی درخواستوں پر سماعت کی۔

اعجاز چوہدری کی جانب سے نو مئی کے تین مقدمات میں بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ اعجاز چوہدری کے وکلا ضمانت کی درخواستوں پر دلائل کے لیے عدالت میں پیش نہیں ہوئے، جس پر عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواستوں کو انتظار میں رکھ لیا۔

اعجاز چوہدری نے اپنے وکیل میاں علی اشفاق کی وساطت سے ضمانت کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ درخواستوں میں جناح ہاؤس حملہ، عسکری ٹاور حملہ اور جناح ہاؤس کے قریب پولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمہ شامل ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر بھی سماعت ہوئی۔ شاہ محمود قریشی کے وکیل بھی ضمانت پر دلائل کے لیے عدالت میں پیش نہ ہوئے، جس پر عدالت نے ان کی درخواست ضمانت کو بھی انتظار میں رکھ لیا۔

عدالت نے شاہ محمود قریشی کے وکیل سے آئندہ سماعت پر ضمانت کی درخواست پر دلائل طلب کر رکھے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے جیل سے جناح ہاؤس کے قریب پولیس کی گاڑیاں جلانے کے مقدمے میں بعد از گرفتاری ضمانت دائر کر رکھی ہے۔

شاہ محمود قریشی کے خلاف تھانہ سرور روڈ میں نو مئی کا مقدمہ نمبر 108/23 درج ہے۔ مقدمے میں پی ٹی آئی رہنماؤں پر کارکنان کو فسادات اور جلاؤ گھیراؤ پر اکسانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نو مئی کے دیگر چھ مقدمات میں بری ہو چکے ہیں، جبکہ اعجاز چوہدری بھی نو مئی کے مقدمات میں نامزد اہم پی ٹی آئی رہنماؤں میں شامل ہیں۔ ان پر بھی کارکنان کو نو مئی کے جلاؤ گھیراؤ اور احتجاج پر اکسانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے