ڈرائیور سے قبل ٹک ٹاکر نے عبداللہ طاہر کو ہنی ٹریپ کرنے کی کوشش کی/ ملزمان میاں بیوی نکلے/ 22 کروڑ کی ڈیل

لاہور(پنجاب پوسٹ)رہنما تحریک انصاف عبداللہ طاہر کے قتل کیس میں دورانِ تفتیش اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزمان نے عبداللہ طاہر کو ہنی ٹریپ کرنے کی کوشش کی، تاہم ناکامی کے بعد منصوبے میں تبدیلی کرتے ہوئے ان کے ڈرائیور کو ہنی ٹریپ کا نشانہ بنایا گیا۔


ذرائع کے مطابق کیس میں گرفتار ٹک ٹاکر ملزمہ نے مبینہ طور پر پہلے عبداللہ طاہر کو تصاویر اور ویڈیوز بھیج کر اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کی، تاہم عبداللہ طاہر کی جانب سے کوئی رسپانس نہ ملنے پر ملزمان نے اپنا پلان تبدیل کر دیا۔


تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ عبداللہ طاہر کے بعد ملزمان نے ان کے ڈرائیور کو ہنی ٹریپ کیا۔ ذرائع کے مطابق ڈرائیور مبینہ طور پر فوری طور پر ملزمان کے جال میں پھنس گیا اور عبداللہ طاہر سے متعلق اہم معلومات ملزمان کے ساتھ شیئر کرنا شروع کر دیں۔

تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈرائیور سے حاصل ہونے والی معلومات بعد ازاں عبداللہ طاہر کے قتل کی منصوبہ بندی میں استعمال ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق ڈرائیور کو ہنی ٹریپ کے ذریعے اپنے ساتھ ملانے کے علاوہ رقم دینے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔کیس کی تفتیش میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ گرفتار ٹک ٹاکر ملزمہ مبینہ طور پر مرکزی سہولت کار ارسلان جٹ کی سابقہ بیوی ہے۔ ذرائع کے مطابق ملزمہ نے ارسلان جٹ سے طلاق کے بعد دوسری شادی کی، تاہم وہاں سے بھی طلاق ہوگئی، جس کے بعد اس نے دوبارہ اپنے سابق شوہر ارسلان جٹ سے رابطہ کیا۔


تفتیشی ذرائع کے مطابق دونوں نے مبینہ طور پر مل کر پہلے عبداللہ طاہر کو ہنی ٹریپ کرنے کا منصوبہ بنایا، تاہم اس میں کامیابی نہ ملنے پر ڈرائیور کو ہنی ٹریپ کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد ازاں ارسلان جٹ نے مبینہ طور پر شوٹرز ہائر کیے اور عبداللہ طاہر کے قتل سمیت دیگر معاملات کو آگے بڑھایا۔ذرائع کے مطابق مرکزی سہولت کار ارسلان جٹ واردات کے بعد فرار ہو کر وزیرستان چلا گیا، جہاں اس کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔


تفتیشی ذرائع نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ عبداللہ طاہر کے قتل کے لیے 22 کروڑ روپے کی سپاری دی گئی تھی۔ کیس میں ہنی ٹریپ، ڈرائیور سے معلومات کے حصول، شوٹرز کی مبینہ خدمات اور مالی لین دین سمیت مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔


صحافی محمد عمیر کے مطابق کیس میں مزید اہم انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے