لاہور: (پنجاب پوسٹ )لاہور ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر 2 اور 4 پر نصب ووڈن سلیپرز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ مین لائن ریلوے ٹریک پر متعدد مقامات پر نیٹ بولٹس بھی غائب یا غیر نصب ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس پر مسافروں کی حفاظت سے متعلق سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق چند روز قبل پتوکی ریلوے اسٹیشن کے قریب ٹریک میں خرابی کے باعث ایک ٹرین ڈی ریل ہونے کا واقعہ بھی پیش آ چکا ہے، تاہم اس کے باوجود لاہور ریلوے اسٹیشن کے ٹریکس کی مرمت اور دیکھ بھال پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔
مزیدپڑھیں؛15 روز میں پنجاب کی تمام سرکاری عمارتوں کا اسٹرکچرل سروے، جامع رپورٹ طلب
اگرچہ لاہور ریلوے اسٹیشن کی عمارت اور دیگر سہولیات کو جدید معیار کے مطابق بہتر بنایا گیا ہے، لیکن ریلوے ٹریک کی خستہ حالی انتظامی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ افسران، ڈی این ون اور پی ڈبلیو آئی کی مبینہ غفلت کے باعث ٹریک کی صورتحال تشویشناک ہے، جبکہ ریلوے انتظامیہ کی خاموشی نے بھی کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔
تاہم ان دعوؤں پر ریلوے حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔









