منچن آباد (پنجاب پوسٹ) میکلوڈ گنج میں مبینہ ہنی ٹریپ کی وارداتوں میں مسلسل اضافے نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک برس کے دوران ہنی ٹریپ سے متعلق 7 سے 8 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان واقعات میں بعض افراد کو مبینہ طور پر خواتین کے ذریعے جال میں پھنسایا گیا، بعد ازاں تشدد اور بلیک میلنگ کے ذریعے ان سے بھاری رقوم وصول کی جاتیں۔ بعض متاثرین سے مبینہ طور پر لاکھوں روپے بٹورنے کے باوجود انہیں مزید بلیک میل کیا جاتا رہا تاکہ وہ واقعے کو منظر عام پر نہ لائیں۔
مبینہ گروہ کو بعض سہولت کاروں کی پشت پناہی حاصل ہے، جبکہ ان کے پیچھے علاقے کی بااثر شخصیات کی موجودگی کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔
تازہ ترین واقعے میں علی رضا نامی شخص اس گینگ کا نشانہ بنا ہے جس نے تھانہ میکلوڈ گنج میں مقدمہ درج کرایا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق علی رضا بھولے شاہ (بھولیاں والی) کا رہائشی اور پیشے کے اعتبار سے بیوپاری ہے۔ مدعی کے مطابق 7 اگست کو اسے ماریہ نامی خاتون نے فون کرکے گھر بلایا اور کہا کہ گائے فروخت کرنی ہے۔ علی رضا کے مطابق وہاں پہنچنے پر ماریہ کے شوہر اقبال وٹو اور چار نامعلوم افراد نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس دوران ماریہ نے مبینہ طور پر اپنے کپڑے پھاڑ لیے اور دھمکی دی کہ وہ اسی حالت میں تھانے چلی جائے گی اور علی رضا پر زنا بالجبر کا مقدمہ درج کروا دے گی۔ مدعی کے مطابق بعد ازاں اس سے ڈیڑھ لاکھ روپے وصول کیے گئے اور وہ بمشکل وہاں سے جان بچا کر نکلا۔
علی رضا نے ایف آئی آر میں الزام عائد کیا ہے کہ ماریہ اس سے قبل حویلی لکھا اور میکلوڈ گنج کے پولیس اسٹیشنز میں دفعہ 376 تعزیراتِ پاکستان کے تحت متعدد مقدمات درج کروا چکی ہے اور مبینہ طور پر لاکھوں روپے کے عوض مقدمات واپس لیتی رہی ہے۔ تاہم یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ایف آئی آر میں درج یہ تمام الزامات مدعی کا مؤقف ہیں۔ ان کی حقیقت کا تعین پولیس تفتیش اور عدالت کرے گی۔












