پاکستان کی عسکری تاریخ میں میجر طفیل محمد شہید، نشانِ حیدر کا نام جرات، بہادری، فرض شناسی اور وطن کے لیے بے مثال قربانی کی علامت ہے۔ انہوں نے دشمن کے خلاف ایک مشکل معرکے میں اپنی جان کی پروا کیے بغیر قیادت کا مظاہرہ کیا اور شہادت کا عظیم مرتبہ حاصل کیا۔ ان کی قربانی پاک فوج کی شاندار روایات اور وطن سے غیر متزلزل وفاداری کی روشن مثال ہے۔
فوجی زندگی اور پیشہ ورانہ کردار
میجر طفیل محمد نے پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، قائدانہ کردار اور فرض سے غیر معمولی وابستگی کے باعث انہوں نے فوج میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ ایک باصلاحیت افسر ہونے کے ساتھ ساتھ جرات مند اور ذمہ دار کمانڈر بھی تھے۔وطن کی سرحدوں کی حفاظت ان کے لیے محض ایک ذمہ داری نہیں بلکہ قومی فریضہ تھی۔ مشکل حالات میں بھی انہوں نے اپنے فرائض کو ہمیشہ مقدم رکھا اور اپنی قیادت سے جوانوں کے حوصلے بلند کیے۔
لکشمی پور سیکٹر میں کشیدگی
اگست 1958 میں ہندوستانی سرحد سے متصل لکشمی پور سیکٹر میں صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ یہ علاقہ مشرقی پاکستان میں ہندوستانی اشیاء کی سمگلنگ کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ غیر قانونی سمگلنگ کو روکنے کے لیے ایسٹ پاکستان رائفلز (EPR) کو علاقے میں تعینات کیا گیا تھا۔
بھارتی فوج نے سمگلروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے لکشمی پور کے علاقے پر قبضہ کر لیا، جس کے بعد اس علاقے کو دشمن کے قبضے سے واگزار کرانا ایک اہم فوجی ذمہ داری بن گیا۔
دشمن کے مورچوں پر فیصلہ کن حملہ
میجر طفیل محمد کو دشمن کے زیرِ قبضہ لکشمی پور کے علاقے کو واگزار کرانے کی اہم ذمہ داری سونپی گئی۔ انہوں نے اس مشکل مشن کو قبول کرتے ہوئے غیر معمولی عزم اور حوصلے کا مظاہرہ کیا۔
7 اگست کی رات میجر طفیل محمد نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر دشمن کے مضبوط مورچوں پر حملہ کیا۔ دشمن کی جانب سے شدید مزاحمت اور مشین گن کی فائرنگ کے باوجود وہ اپنے مشن سے پیچھے نہ ہٹے۔کارروائی کے دوران دشمن کی مشین گن کی فائرنگ سے میجر طفیل محمد شدید زخمی ہوگئے، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ زخمی ہونے کے باوجود وہ دشمن کے خلاف دستی بموں سے حملہ کرتے رہے اور اپنے جوانوں کی قیادت جاری رکھی۔
شدید زخمی حالت میں بھی کمان نہ چھوڑی
میجر طفیل محمد کی بہادری کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ شدید زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی کمان نہیں چھوڑی۔ ان کا عزم اور قائدانہ کردار جوانوں کے لیے حوصلے کا باعث بنا۔
انہوں نے دشمن کی مضبوط پوزیشنز کو کمزور کرنے اور اسے پسپا کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں کارروائی کامیاب ہوئی اور لکشمی پور سیکٹر کو دشمن کے قبضے سے واگزار کرانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔تاہم یہ معرکہ میجر طفیل محمد کی زندگی کا آخری معرکہ ثابت ہوا۔ شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوگئے۔
نشانِ حیدر سے اعزاز
میجر طفیل محمد شہید کی بے مثال جرات، قیادت اور وطن کے لیے عظیم قربانی کے اعتراف میں انہیں پاکستان کے اعلیٰ ترین فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔
ان کا یہ اعزاز اس بات کا اعتراف ہے کہ انہوں نے انتہائی مشکل اور خطرناک صورتحال میں اپنی جان کی پروا کیے بغیر وطن کے دفاع کو ترجیح دی۔
نوجوان نسل کے لیے روشن مثال
میجر طفیل محمد شہید کی زندگی اور قربانی آج بھی پاکستانی قوم اور بالخصوص نوجوان نسل کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ ان کی داستان ہمیں حب الوطنی، فرض شناسی، جرات اور قربانی کا درس دیتی ہے۔ان کی شہادت اس عزم کی یاد دہانی ہے کہ وطن کے دفاع کے لیے ہمارے بہادر سپوت ہر مشکل کا سامنا کرنے اور ضرورت پڑنے پر اپنی جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔میجر طفیل محمد شہید کا نام پاکستان کی عسکری تاریخ میں ہمیشہ جرات، قربانی اور وطن سے وفاداری کی روشن علامت کے طور پر زندہ رہے گا۔














