لاہور (پنجاب پوسٹ) پنجاب میں بکھری ہوئی زرعی اراضی اور جائیدادوں کو یکجا کرنے کے لیے حکومت نے نیا طریقہ کار متعارف کرا دیا۔ 7 اگست 2026ء کو حکومتِ پنجاب نے اراضی کی تقسیم کے عمل کو مزید آسان، مؤثر اور منظم بنانے کے لیے اہم پیش رفت کی ہے۔
نئے طریقہ کار کے تحت پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967ء کی دفعہ 147-A کے تحت وراثتی یا مشترکہ اراضی کی تقسیم سے قبل چھوٹی اور بکھری ہوئی ہولڈنگز کو پہلے ممکنہ حد تک یکجا کیا جا سکے گا، جس کے بعد تقسیم کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
اس اقدام کا مقصد ایک ہی مالک کی مختلف مقامات پر موجود چھوٹی چھوٹی اراضی کو ممکنہ حد تک ایک جگہ اکٹھا کرنا ہے، جس سے زمین کے غیر ضروری بکھراؤ میں کمی، کاشت کاری میں آسانی اور ریونیو ریکارڈ کی بہتر دیکھ بھال ممکن ہوگی۔
نئے طریقہ کار کے تحت سب ڈویژن کے کلکٹر کو درخواست دی جائے گی، جس کے بعد سرکل ریونیو آفیسر متعلقہ مالکان میں سے کم از کم 25 فیصد کی رضامندی حاصل کرے گا۔
درخواست پر کارروائی کے لیے سرکل ریونیو آفیسر کو 15 دن، سب ڈویژن کلکٹر کو منظوری کے لیے 7 دن جبکہ ضلع کلکٹر کو مزید 7 دن کی مدت دی گئی ہے۔
منظوری کا عمل مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ریونیو آفیسر فوری طور پر یکجا شدہ ہولڈنگ کی تقسیم کا عمل شروع کرے گا۔
حکام کے مطابق یہ اقدام خاص طور پر ان علاقوں کے لیے اہم ہے جہاں نسل در نسل وراثتی تقسیم کے باعث زرعی زمین چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ بکھری ہوئی اراضی کے باعث کاشت کاری کے ساتھ ساتھ راستوں، حدود، قبضے اور ریونیو ریکارڈ سے متعلق مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔
نئے نظام سے شہریوں اور کسانوں کو اپنی بکھری ہوئی اراضی کو زیادہ منظم انداز میں رکھنے میں سہولت ملے گی، جبکہ ریونیو ریکارڈ کی درستگی اور زمین سے متعلق معاملات کے حل میں بھی بہتری آنے کی توقع ہے۔















