لاہور (پنجاب پوسٹ) نیب نے سینیٹ کی لاء اینڈ جسٹس کمیٹی کو ادارے کی 36 سالہ کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ 1991 سے جون 2026 تک نیب نے مجموعی طور پر 16 ہزار 93 ارب روپے کی ریکوری کی۔
سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیرصدارت سینیٹ کی لاء اینڈ جسٹس کمیٹی کے اجلاس میں نیب حکام نے ادارے کی کارکردگی کے اعداد و شمار پیش کیے۔ ڈی جی نیب کے مطابق گزشتہ 36 برسوں کے دوران نیب نے 5 لاکھ 5 ہزار 799 شکایات کا جائزہ لیا، 7 ہزار 339 انویسٹی گیشنز مکمل کیں، ایک لاکھ 21 ہزار 147 انکوائریز کیں جبکہ 4 ہزار 105 ریفرنسز دائر کیے گئے۔
نیب حکام کے مطابق گزشتہ ساڑھے پانچ برس کے دوران ادارے کو ساڑھے 22 ارب روپے کا بجٹ ملا۔ چیئرمین نیب نے کمیٹی کو بتایا کہ اتنے کم بجٹ میں سب سے زیادہ ریکوریاں کرنے پر نیب سرفہرست ہے۔
چیئرمین کمیٹی فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ نیب میں غلط شکایات درج ہونے کے باعث لوگوں کا ادارے پر اعتماد ختم ہوا، غلط اور جھوٹی شکایات کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ضروری ہے۔
چیئرمین نیب نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں چار ماہ کا وقت دیا جائے تو وہ تیل، بجلی سمیت بڑے چیلنجز کو دور کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں مناسب مینڈیٹ دیا جائے اور ایک ہائی لیول کمیٹی تشکیل دی جائے، جس میں ایف بی آر، ایس ای سی پی اور مسابقتی کمیشن کے حکام کو شامل کیا جائے۔
چیئرمین نیب کے مطابق تیل اور بجلی سمیت بڑے بحرانوں کا حل موجود ہے اور اس کے لیے چار ماہ کا وقت درکار ہے، تاہم وہ چار ماہ کا وقت بھی زیادہ مانگ رہے ہیں اور اس سے کم مدت میں مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بحرانوں کے حل کے لیے جو منصوبہ تیار کیا جائے گا وہ زمینی حقائق کے مطابق اور مقامی سطح پر تیار کردہ ہوگا۔














