لاہور ( پنجاب پوسٹ ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے اسے امتِ مسلمہ کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن موڑ قرار دیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ نہ صرف تین اہم مسلم ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو نئی جہت دے گا بلکہ عالمِ اسلام کے اتحاد، مشترکہ سلامتی اور باہمی اعتماد کو بھی مزید مضبوط بنائے گا۔
مریم نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف، سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور سپہ سالار فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مسلم دنیا کے اتحاد کے لیے ان کی مشترکہ کاوشیں قابلِ ستائش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین سے دنیا کو یہ واضح پیغام ملا ہے کہ مسلم ممالک اپنے مشترکہ مفادات، سلامتی اور استحکام کے لیے متحد ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ مکہ مکرمہ کے مقدس ماحول میں تین بڑی معاشی، عسکری اور سیاسی طاقتوں کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا پوری امتِ مسلمہ کے لیے خوش آئند پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا مشترکہ دفاعی معاہدہ عالمِ اسلام میں تعاون اور یکجہتی کے ایک نئے باب کا آغاز ہے، جو خطے میں امن، استحکام اور اجتماعی دفاع کو مزید تقویت دے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سعودی اور ترک قیادت کے ساتھ مل کر پاکستان کا وقار عالمی سطح پر بلند کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ مسلم دنیا کے اتحاد، اجتماعی سلامتی اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے فعال کردار ادا کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی ایسے ہر اقدام کی حمایت جاری رکھے گا جو امتِ مسلمہ کو مزید مضبوط بنائے۔
مریم نواز شریف نے مزید کہا کہ اس دفاعی معاہدے کے نتیجے میں نہ صرف شریک ممالک کی سرحدوں کے تحفظ کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے اعتماد اور اتحاد کو بھی نئی طاقت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملے کو تمام شریک ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو اسلامی دنیا کے باہمی اتحاد اور مشترکہ دفاعی عزم کا واضح اظہار ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ ایسے اقدامات کا خیرمقدم کرتا رہے گا جو مسلم ممالک کے درمیان اتحاد، اجتماعی سلامتی، باہمی اعتماد اور پائیدار امن کے فروغ کا باعث بنیں اور امتِ مسلمہ کو عالمی سطح پر مزید مضبوط اور مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنائیں۔













