لاہور(پنجاب پوسٹ) ایڈیشنل سیشن جج مسرور انور نے 540 گرام ہیروین برآمدگی کے مقدمے میں ملزم کو ناقص تفتیش کے باعث بری کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق تھانہ کاہنہ پولیس نے ملزم کرامت علی کے خلاف آدھا کلو سے زائد ہیروین رکھنے کا مقدمہ عدالت میں پیش کیا۔ سماعت کے دوران ملزم کے وکیل حافظ محمد رضا ایڈووکیٹ نے مؤثر جرح کی، جس میں تفتیشی عمل میں سنگین خامیاں سامنے آئیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ جب گواہوں کے بیانات کا ریکارڈ پرنٹ کیا گیا تو متعلقہ گواہ موجود ہی نہیں تھے۔ مزید یہ کہ مال مقدمہ تفتیشی افسر کے حوالے کیا گیا جبکہ اس وقت تفتیشی موقع پر موجود نہیں تھا۔ اسی طرح فرانزک لیبارٹری کو رپورٹ بھیجی گئی تو بھی تفتیشی افسر موجود نہیں تھا۔
عدالت نے وکیل صفائی کی جانب سے اٹھائے گئے تین اہم نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے قرار دیا کہ تفتیش ناقص اور غیر تسلی بخش ہے، جس کے باعث ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا جاتا ہے۔
عدالتی فیصلہ متعلقہ افسران کو بھجوا دیا گیا ہے۔ اس موقع پر حافظ محمد رضا ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ منشیات کے مقدمات میں سزاؤں میں اضافے کے بعد پولیس کی تفتیشی کارکردگی میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے ملزمان کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔














