لاہور(پنجاب پوسٹ ) تحریک انصاف کے رہنما عبداللہ طاہر کے قتل کیس کی تحقیقات میں مزید اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق تفتیش کے دوران ایک مبینہ دھمکی آمیز آڈیو کال کی ریکارڈنگ حاصل ہوئی ہے، جس میں مقتول عبداللہ طاہر اور ان کے قریبی ساتھیوں کو نارووال میں ریت کے ٹھیکے سے دستبردار ہونے کی وارننگ دی گئی تھی۔ پولیس اس ریکارڈنگ کو کیس کے اہم شواہد میں شامل کر کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق آڈیو کال عبداللہ طاہر کے منیجر احمد اور ذوالفقار مہیس کو کی گئی تھی۔ مبینہ طور پر کال کرنے والے شخص نے اپنا نام علی حسن بٹ بتایا اور کہا کہ وہ زمان عرف کوگی بٹ کا آدمی ہے۔ آڈیو میں مبینہ طور پر کہا گیا کہ نارووال میں ریت کا ٹھیکہ صرف زمان عرف کوگی بٹ ہی چلائے گا اور کسی دوسرے شخص کو اس ٹھیکے میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پولیس ذرائع کے مطابق ریکارڈنگ میں یہ بھی مبینہ طور پر کہا گیا کہ اگر عبداللہ طاہر یا ان کے ساتھیوں نے ریت کے ٹھیکے کے لیے بولی دینے یا اس کاروبار میں مداخلت کرنے کی کوشش کی تو انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آڈیو میں مبینہ دھمکی دی گئی کہ اگر وہ باز نہ آئے تو ان کے بچوں کی جان بھی خطرے میں ہو سکتی ہے۔
تحقیقات کے مطابق ذوالفقار مہیس، تحریک انصاف کے رہنما سجاد مہیس کے بھائی ہیں، جبکہ سجاد مہیس اور مقتول عبداللہ طاہر کے درمیان پارٹی وابستگی کے باعث قریبی تعلقات اور دوستی بھی موجود تھی۔ پولیس اس پہلو کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا ریت کے ٹھیکے سے متعلق مبینہ تنازع قتل کے محرکات میں شامل تھا یا نہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دھمکی آمیز آڈیو کال کی فرانزک جانچ، کال ڈیٹا ریکارڈ اور دیگر شواہد کی مدد سے تحقیقات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ تفتیشی ٹیم اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ کال کرنے والے افراد، مبینہ دھمکیوں اور عبداللہ طاہر کے قتل کے درمیان کوئی براہِ راست تعلق موجود ہے یا نہیں۔ حکام کے مطابق کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حقائق کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔














