لاہور ( پنجاب پوسٹ ) ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نے شہر بھر کے تھانوں کے لیے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغرب کے بعد کسی بھی تھانے میں کوئی خاتون موجود نہیں ہونی چاہیے۔ یہ ہدایت سٹی ڈویژن کے افسران کے ساتھ کرائم کنٹرول اجلاس کے دوران جاری کی گئی، جہاں انہوں نے خواتین کے ساتھ عزت، احترام اور خوش اخلاقی سے پیش آنے کی بھی سختی سے تاکید کی۔
ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق یہ اقدام خواتین کے وقار کے تحفظ اور پولیس اسٹیشنز میں ان کے ساتھ باوقار رویہ یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ مغرب کے بعد کسی بھی تھانے میں نہ کوئی خاتون مدعیہ موجود ہو اور نہ ہی کوئی خاتون ملزمہ۔
محمد فیصل کامران نے اجلاس میں افسران کو ہدایت کی کہ خواتین سے متعلق تمام معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے تاکہ انہیں غیر ضروری طور پر تھانوں میں انتظار نہ کرنا پڑے۔
دوسری جانب اس فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ خواتین کے تحفظ کے لیے زیادہ مؤثر اقدام یہ ہوگا کہ پولیس اسٹیشنز کو ہر وقت محفوظ اور خواتین دوست بنایا جائے تاکہ کسی بھی خاتون کو دن یا رات کے کسی بھی وقت بلا خوف و خطر انصاف اور مدد تک رسائی حاصل ہو سکے۔
واضح رہے کہ 2 اگست کو لاہور کے تھانہ غازی آباد میں ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں ڈی آئی جی آپریشنز نے سخت کارروائی کرتے ہوئے ایس ایچ او سمیت تھانے کے تمام 78 اہلکاروں اور افسران کو معطل کردیا جب کہ ملزم اے ایس آئی عمران کو مقدمہ درج کرکے گرفتار کرلیا گیا ہے۔












