لاہور (پنجاب پوسٹ) پنجاب پولیس کی ڈولفن فورس کے مستقبل سے متعلق اہم تجاویز تیار کر لی گئی ہیں، جبکہ فورس کو ختم یا اس میں بڑے پیمانے پر تبدیلی سے متعلق حتمی فیصلہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کریں گی۔
پولیس ذرائع کے مطابق موٹر سائیکلوں کی خراب حالت، پٹرول کی شدید کمی اور اہلکاروں میں بڑھتی ہوئی بیماریوں کے باعث ڈولفن فورس کی کارکردگی شدید متاثر ہوئی ہے۔ آئی جی پنجاب کی جانب سے ڈولفن فورس اور پی آر یو کے مستقبل سے متعلق تجاویز تیار کرکے وزیراعلیٰ پنجاب کو بھجوائی جائیں گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تجاویز کے تحت ڈولفن فورس کے اہلکاروں کو پٹرولنگ سے ہٹا کر تھانوں میں تعینات کیے جانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ لاہور میں ڈولفن فورس کے لیے خصوصی بھرتی کی گئی تھی، جبکہ دیگر اضلاع میں ضلعی پولیس سے اہلکار لے کر فورس تشکیل دی گئی۔
پولیس ذرائع کے مطابق ڈولفن فورس اس وقت لاہور، راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالہ، مری اور ڈی جی خان میں آپریشنل ہے، تاہم لاہور میں گزشتہ کئی ماہ سے فورس باقاعدہ پٹرولنگ کے بجائے مختلف پوائنٹس پر ڈیوٹیاں سرانجام دے رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق لاہور میں موجود 600 ہیوی موٹر سائیکلوں میں سے 400 مرمت نہ ہونے کے باعث ناکارہ ہو چکی ہیں، جبکہ باقی 200 موٹر سائیکلوں پر اہلکار مختلف کیمروں اور پوائنٹس پر ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ مزید یہ کہ ڈولفن فورس کے پٹرول کے تقریباً 5 کروڑ روپے کے واجبات بھی زیر التوا ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلسل ڈیوٹیوں کے باعث متعدد اہلکار بواسیر، ریڑھ کی ہڈی اور دیگر جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب پی آر یو کی 106 گاڑیوں میں سے 42 مکمل طور پر ناکارہ ہو چکی ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب نے ڈولفن فورس اور پی آر یو کے مستقبل سے متعلق اجلاس کے بعد حتمی سفارشات پر مشتمل سمری وزیراعلیٰ پنجاب کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر حتمی فیصلہ وزیراعلیٰ مریم نواز کریں گی۔











