لاہور ( پنجاب پوسٹ ) پاکستان بھر کے مختلف شہروں، جن میں کوئٹہ، گوادر، لسبیلہ، کراچی، لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان، گلگت، اسکردو اور مظفرآباد سمیت دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 40 طلبہ و طالبات نے پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس اور چھوٹے صوبوں کے قیام کی ضرورت پر اپنی آراء کا اظہار کیا۔
طلبہ و طالبات کی اکثریت، تقریباً 90 فیصد، کا کہنا تھا کہ بہتر طرزِ حکمرانی، مؤثر انتظامی نظام اور عوامی سہولیات کی بروقت فراہمی کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا چھوٹے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
طلبہ کے مطابق انتظامی یونٹس کی تعداد میں اضافے سے عوام اور منتخب نمائندوں کے درمیان رابطہ مزید مضبوط ہوگا، جس سے عوامی مسائل کے حل، فیصلہ سازی کے عمل اور سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے وسائل اور ترقیاتی بجٹ کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوگی جبکہ دور دراز علاقوں تک ریاستی خدمات کی فراہمی بھی زیادہ مؤثر بنائی جا سکے گی۔
طلبہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انتظامی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے سے مقامی حکومتیں زیادہ فعال اور جوابدہ ہوں گی، عوام کو اپنے نمائندوں تک براہِ راست رسائی حاصل ہوگی اور مجموعی طور پر گورننس کے نظام میں بہتری آئے گی۔
طلبہ و طالبات نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں متوازن ترقی، مؤثر ریاستی نظم و نسق اور عوامی فلاح کو یقینی بنانے کے لیے انتظامی اصلاحات اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔












