لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے اراضی سے متعلق مبینہ جعلسازی اور فراڈ کیس میں قرار دیا ہے کہ سول مقدمہ زیرِ سماعت ہونے سے فوجداری کارروائی نہیں رکے گی۔ عدالت نے واضح کیا کہ سول اور فوجداری کارروائیاں بیک وقت جاری رہ سکتی ہیں۔
جسٹس محمد امجد پرویز نے چوہدری اللہ وسایا کی درخواست پر 14 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ محض سول تنازع کی بنیاد پر فوجداری مقدمہ ختم یا معطل نہیں کیا جا سکتا، جبکہ سول کیس زیرِ التوا ہونا فوجداری کارروائی روکنے کی قانونی وجہ نہیں ہے۔
عدالت کے مطابق اگر جعلسازی کا جرم سول مقدمہ دائر ہونے سے پہلے ہوا ہو تو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 195(1)(c) لاگو نہیں ہوگی۔ فوجداری مقدمات قانون کے مطابق معمول کے طریقہ کار سے آگے بڑھیں گے۔
لاہور ہائیکورٹ نے مزید قرار دیا کہ تفتیش کے مرحلے پر فوجداری مقدمات میں ہائیکورٹ کی مداخلت کا جواز نہیں بنتا۔











