لاہور (پنجاب پوسٹ)ایکسائز حکام نے ٹوکن ٹیکس اور پراپرٹی ٹیکس کے نادہندگان کو خبردار کیا ہے کہ یکم اکتوبر سے پنجاب بھر میں ان کے خلاف سخت کارروائیوں کا آغاز کر دیا جائے گا۔ ٹیکس ادا کرنے کے لیے 30 ستمبر کی آخری تاریخ مقرر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹیکس دہندگان کیخلاف ایف آئی آر پر آئینی درخواستیں ،لاہور ہائیکورٹ نے خارج کیوں کیں ؟
ٹوکن ٹیکس: سو فیصد جرمانے کے ساتھ وصولی
ایکسائز حکام کے مطابق لاہور سمیت پنجاب بھر میں ٹوکن ٹیکس کے نادہندگان سے یکم اکتوبر سے سو فیصد جرمانوں کے ساتھ وصولیاں کی جائیں گی۔ اس وقت 30 ستمبر تک نادہندگان سے صرف روٹین کا ٹوکن ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ جرمانوں سے بچنے کے لیے 30 ستمبر تک ہر صورت اپنے ٹوکن ٹیکس کی ادائیگیاں یقینی بنا لیں۔
پراپرٹی ٹیکس: 5 فیصد رعایت کی مہلت ختم ہونے کو
حکام کے مطابق 30 ستمبر تک پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی پر 5 فیصد رعایت دی جا رہی ہے۔ اس تاریخ کے بعد یکم اکتوبر سے صوبہ بھر میں پراپرٹی ٹیکس کے نادہندگان کے خلاف وصولی کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
کمرشل پراپرٹیز کی سربمہری
حکام نے بتایا کہ کمرشل پراپرٹیز کے وہ ڈیفالٹرز جو کئی سالوں سے ٹیکس ادا نہیں کر رہے، ان کی جائیدادوں کو سربمہر کرنے کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔
125 ارب روپے کا ہدف
حکام کا کہنا ہے کہ 125 ارب روپے کے ریونیو ہدف کو حاصل کرنے کے لیے تمام ڈیفالٹرز سے وصولیاں یقینی بنائی جائیں گی۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بروقت ٹیکس ادا کر کے قانونی کارروائی اور جرمانوں سے محفوظ رہیں۔










