لاہور ہائیکورٹ کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کے معاملے پر بڑا اور واضح فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے شناختی کارڈ بلاک کرنے سے متعلق اہم آئینی اور قانونی نکات واضح کرتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ نادرا کا جاری کردہ شناختی کارڈ شہری کی منقولہ جائیداد نہیں بلکہ یہ صرف شہری کی شناخت کا ذریعہ ہے، جو بدستور وفاقی حکومت کی ملکیت رہتا ہے۔

عدالت نے اپنے سات صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ سول عدالتیں کسی بھی سول مقدمے کی کارروائی کے دوران شناختی کارڈ کو ضبط، منسوخ یا بلاک کرنے کی مجاز نہیں۔ شناختی کارڈ کو کینسل یا ضبط کرنے کا اختیار صرف قانون میں بیان کردہ مخصوص حالات کے تحت متعلقہ اتھارٹی کو حاصل ہے، جیسا کہ نادرا آرڈیننس کے سیکشن 18 میں درج ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ہر شہری پر لازم ہے کہ وہ خود کو متعلقہ اتھارٹی کے پاس رجسٹرڈ کرائے، جبکہ شناختی کارڈ کسی بھی صورت فروخت، ٹرانسفر یا کسی دوسرے شخص کے قبضے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ عدالت نے مزید واضح کیا کہ شناختی کارڈ ہولڈر کی وفات کے بعد یہ وراثت کا حصہ بھی نہیں بن سکتا کیونکہ یہ کوئی پراپرٹی نہیں بلکہ صرف شناختی دستاویز ہے۔

عدالت کے مطابق حکومت شناختی کارڈ ایک سرکاری ڈاکیومنٹ کے طور پر جاری کرتی ہے، اسے کسی صورت منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد تصور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے نادرا کی جانب سے درخواست گزار کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سول عدالت کا ایسا حکم بھی قانون کے خلاف ہے۔ عدالت نے درخواست گزار کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت نے نادرا کو حکم دیا کہ درخواست گزار کا شناختی کارڈ فوری طور پر بحال کیا جائے اور بحالی کے بعد پندرہ روز کے اندر ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کو رپورٹ پیش کی جائے۔ فیصلے کی مصدقہ نقل نادرا کو بھجوانے کا بھی حکم دیا گیا۔

یہ تحریری فیصلہ جسٹس تنویر احمد شیخ نے جاری کیا۔ کیس میں شہری محمد علی انصاری نے سول عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس کے تحت عدم پیشی پر ان کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

یہ فیصلہ شناختی کارڈ سے متعلق شہری حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم عدالتی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے