قصور(پنجاب پوسٹ) تھانہ صدر پھول نگر پولیس نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 70 سالہ سرداراں بی بی کے اغوا کے 9 ماہ پرانے اندھے معمہ کو حل کر لیا۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کو ان کے سگے بھتیجوں نے جائیداد ہتھیانے کی غرض سے قتل کر کے اپنے ہی گھر کے صحن میں دفن کر دیا تھا۔ پولیس نے دونوں ملزمان عمران اور شان علی کو گرفتار کر لیا جبکہ ان کی نشاندہی پر مقتولہ کی نعش بھی برآمد کر لی گئی۔پولیس کے مطابق نتھے جاگیر کی رہائشی، غیر شادی شدہ 70 سالہ سرداراں بی بی کے بھائی رشید نے تقریباً 9 ماہ قبل اپنی بہن کے اغوا کا مقدمہ تھانہ صدر پھول نگر میں درج کروایا تھا۔ مقدمے کے اندراج کے بعد پولیس نے خاتون کی تلاش کے لیے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات کا آغاز کیا۔ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان کی ہدایت پر ایس پی انویسٹی گیشن محمد ضیاء الحق کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی، جس میں ایس ایچ او اسلم بھٹی سمیت دیگر افسران شامل تھے۔ پولیس ٹیم نے خاتون کی بازیابی کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن کیے، مقامی افراد سے پوچھ گچھ کی، مختلف ہسپتالوں اور دیگر مقامات پر بھی معلومات حاصل کیں، تاہم ابتدائی تحقیقات میں کوئی اہم سراغ نہ مل سکا۔
تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کرنے پر پولیس کو مقتولہ کے بھتیجوں پر شک گزرا۔ دورانِ تفتیش دونوں ملزمان سے سختی سے پوچھ گچھ کی گئی تو انہوں نے اپنی پھوپھی کے قتل کا اعتراف کر لیا۔ملزمان نے انکشاف کیا کہ انہوں نے جائیداد پر قبضہ کرنے کی نیت سے سرداراں بی بی کا دوپٹے سے گلا دبا کر قتل کیا اور جرم چھپانے کے لیے نعش اپنے ہی گھر کے صحن میں دفن کر دی۔ پولیس نے ملزمان کی نشاندہی پر صحن سے نعش برآمد کر کے قانونی کارروائی مکمل کر لی۔تھانہ صدر پھول نگر پولیس نے دونوں ملزمان عمران اور شان علی کو حسبِ ضابطہ گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے تاکہ مقدمے کے دیگر پہلوؤں کو بھی مکمل طور پر سامنے لایا جا سکے۔ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان نے اندھے اغوا و قتل کے معمہ کو حل کرنے پر پولیس ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی لالچ اور اخلاقی گراوٹ نے خونی رشتوں کے تقدس کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں محبت، رواداری اور برداشت کے فروغ سے ہی مقدس رشتوں کا احترام بحال رکھا جا سکتا ہے۔













