لاہور(پنجاب پوسٹ)سموگ کے بڑھتے ہوئے خطرات اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے لاہور ٹریفک پولیس نے سخت اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے سموگ تدارک مہم کے تحت دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ایسے ڈرائیورز کے ڈرائیونگ لائسنس معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ کمرشل گاڑیوں کے روٹ پرمٹ بھی معطل کیے جائیں گے۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کا کہنا ہے کہ انسانی صحت اور عوامی تحفظ کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں، اسی لیے آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے مالکان اور ڈرائیورز کے خلاف اب صرف جرمانے نہیں بلکہ مزید سخت قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ بغیر ترپال مٹی، ریت اور تعمیراتی سامان لے جانے والی ٹرالیوں اور ڈمپرز کے شہر لاہور میں داخلے پر پابندی عائد ہے، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف اب تک 1013 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ اس مقصد کے لیے شہر کے 12 داخلی و خارجی راستوں پر خصوصی ناکے قائم کیے گئے ہیں جبکہ 45 خصوصی ٹیمیں بھی مختلف مقامات پر تعینات ہیں۔سی ٹی او کے مطابق رواں ماہ دھواں چھوڑنے والی 3649 گاڑیوں اور فضائی آلودگی کا باعث بننے والی 2183 گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی گئی، جبکہ 6820 بغیر فٹنس اور خستہ حال گاڑیوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔انہوں نے کہا کہ بغیر ترپال، پانی کے چھڑکاؤ اور دیگر حفاظتی اقدامات کے بغیر چلنے والی ٹریکٹر ٹرالیوں کو کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ لاہور ٹریفک پولیس مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) سسٹم کی مدد سے بھی دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی نشاندہی کر کے ای چالان جاری کر رہی ہے۔
سید عبدالرحیم شیرازی کا مزید کہنا تھا کہ سموکی وہیکلز کی بروقت مرمت اور فٹنس یقینی بنانے کے لیے متعدد سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کو مراسلے بھی جاری کیے جا چکے ہیں اور اب ان اداروں کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اگر انہوں نے ہدایات پر عمل درآمد نہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فضائی آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد جاری رہے گا۔













