لاہور(پنجاب پوسٹ) لاہور کے علاقے باغبانپورہ میں ایک کمرے کی تین منزلہ چھت گرنے کے واقعے کا 16 گھنٹے طویل آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے۔ اس سانحے میں عورتوں اور بچوں سمیت 11 جان سے گئے جبکہ 6 زخمی ہسپتال میں زیر علاج ہیں ۔
ریسیکو 1122 نے آپریشن کیسے کیا؟
باغبانپورہ میں چھت گرنے سے دس افراد ہلاک جاںبحق جبکہ ٹوٹل 17افراد ملنے تلے دبے گئےِ،ابھی بھی ایک ڈہڈ باڈی ملبے تلے موجود ، حادثہ میں 6 افراد زخمی ،تنگ گلیاں ہونے کی وجہ سے آپریشن میں مشکلات کا سامنا رہا، ڈی جی ریسکیو ایک کمرے کے گھر پر تین مزلہ عمارت تعمیر تھی. ۔ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں اطلاع ملتے ہی فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم نے ملبہ ہٹا کر متاثرین کو نکالنے کے لیے کئی گھنٹوں تک آپریشن جاری رکھا۔
ریسکیو حکام کے مطابق مکان کی چھت بدھ کو رات 10 بج کر 15 منٹ پر گھر کی چھت گرنے کی اطلاع موصول ہوئی ۔ جس کے نتیجے میں تین خاندانوں کے 17 افراد ملبے تلے دب گئے۔ امدادی کارروائیوں میں 10 ایمرجنسی وہیکلز اور 40 سے زائد ریسکیورز نے حصہ لیا۔ ملبے سے نکالے گئے تمام زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ سرچ آپریشن مکمل ہونے تک امدادی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہیں۔ تاہم 16 گھنٹے جاری رہنے والا آپریشن اب مکمل ہوگیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کیا کہا؟
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے باغبانپورہ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر لاہور اور دیگر انتظامی افسران فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچے اور امدادی کارروائیوں کی نگرانی کی۔ وزیراعلیٰ نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور علاج میں کسی قسم کی غفلت نہ برتنے کی ہدایت کی، جبکہ جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا بھی اظہار کی۔
جاں بحق اور زخمی بچوں کے نام
حادثے میں 8 افراد جاں بحق جبکہ 6 افراد زخمی ہو گئے۔ایدھی ترجمان زخمی ہونے والوں میں 19 سالہ سینہا، 23 سالہ ناصر، 35 سالہ زاہد، 14 سالہ سحر، 50 سالہ شاہد اور 46 سالہ شبیر شامل ہیں۔ترجمانحادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں 60 سالہ شاہدہ، 52 سالہ ثمینہ، 25 سالہ آہد، 7 سالہ حامد، 24 سالہ کومل، 10 سالہ فصنائن، 7 سالہ نیلم اور 22 سالہ مجاہد شامل ہیں۔
ضلعی انتظمایہ کا موقف
ڈپٹی کمشنر لاہور نے ہسپتال انتظامیہ کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے، متاثرہ مکان کا ملبہ فوری طور پر ہٹانے اور واقعے کی وجوہات پر تفصیلی انکوائری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ڈی سی لاہور کا کہنا تھا کہ انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے اور ضلعی انتظامیہ زخمیوں کی حالت اور علاج کی سہولیات کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔













