ساہیوال ( پنجاب پوسٹ ) اردو شاعری میں ترنم کیساتھ شعر کہنے والی ، ادبی حلقوں میں غزل کی رانی سے مشہور،اردو ادب کی بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعرہ، مصنفہ، ادیبہ بسمل صابری 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں
بسمل صابری ڈی پی اؤ حافظ آباد فواد احمد کی والدہ تھیں مرحومہ کو ادب کی دنیا میں غزل کی رانی کہا جاتا تھا۔مرحومہ کا اصل نام بسم اللہ بیگم صابری تخلص بسملؔ صابری ہے وہ 18؍جولائی1938 کو منٹگمری،ساہیوال ( پاکستان ) میں پیدا ہوئیں ۔انہوں نے ابتدائی تعلیم ساہیوال سے جبکہ اعلی تعلیم لاہور سے حاصل کی وہاں سے فراغت کے بعد گورنمنٹ گرلز کالج ساہیوال میں بطور لیکچرر مقرر ہوئیں ۔ وہاں سے پروفیسر کی حیثیت سے سبکدوش ہوئیں ۔
یہ بھی پڑھیں : گورنر ہاؤس لاہور میں سول ایوارڈز کی تقریب تقسیم اعزازات کی پروقار تقریب
بسمل صابری نے متعدد بیرون ملک میں بین الاقوامی مشاعروں میں شرکت کی ۔ قیام پاکستان سے قبل ان کا شمار برصغیر کی صف اول کی خواتین شاعرات میں ہوتا تھا ۔ بسمل صابری کے اب تک 5 شعری مجموعے اور ایک نثری کتاب شائع ہو چکی ہے ۔ ان کے شعری مجموعوں میں، پانی کا گھر، یادوں کی بارشیں، روشنیوں کے رنگ، رس کی پھوہار اور ایک نعتیہ شعری مجموعہ ” بیاضِ نظر ” شامل ہیں۔
ہے .

پنجاب کونسل آف دی آرٹس کی جانب سے 2019میں انہیں مجید امجد ادبی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا ۔ بسمل صابری نیشنل و انٹرنیشنل سطح پر مشاعروں ، کانفرنسوں میں شریک ہوئیں اور وطن عزیز کی نمائندگی کی ، بسمل صابری کی وفات پر صحافی ، وکلاء برادری، شعراء برادری اور ادب سے تعلق رکھنے والے افراد نے گہرے سوگ اور صدمے کا اظہار کیا ہے،انکی نماز جنازہ ساہیوال طارق بن زیاد کالونی میں ادا کردی گئی نماز جنازہ میں سیاسی شخصیات،ادیب ،شاعر،پولیس وسول افسران و شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی











