اسلام آباد(پنجاب پوسٹ)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان سے ایران اور افغانستان کے سفیروں نے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں مرحوم امیر العظیم کے انتقال پر اظہارِ تعزیت، باہمی تعلقات، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں سفیروں نے مرحوم امیر العظیم کی دینی، ملی اور سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کے دوران پاکستان اور ایران کے برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان اور ایران ایک جان، دو قالب کی حیثیت رکھتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مذہبی، تاریخی اور ثقافتی رشتے انتہائی مضبوط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ، لبنان اور پورے خطے میں فوری اور مکمل جنگ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں ایرانی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد کو موجودہ حالات میں ناگزیر قرار دیتے ہوئے مسلم ممالک کے درمیان باہمی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ پاکستان، ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان قریبی تعاون خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلم ممالک کو باہمی روابط مزید مضبوط بنانے ہوں گے۔دوسری جانب افغان سفیر سردار احمد شکیب نے بھی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات میں مرحوم امیر العظیم کے انتقال پر افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات، سرحدی تعاون اور علاقائی امن سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام مذہبی، تاریخی اور ثقافتی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مسلسل رابطوں، باہمی اعتماد اور مثبت سفارتی کوششوں کے ذریعے تمام اختلافات ختم کیے جا سکتے ہیں۔افغان سفیر سردار احمد شکیب نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا تعاون خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور دونوں ہمسایہ ممالک کو مشترکہ مفادات کے لیے مل کر آگے بڑھنا چاہیے۔دونوں ملاقاتوں کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ امت مسلمہ کے اتحاد، باہمی تعاون اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی تاکہ علاقائی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔













