لاہور (پنجاب پوسٹ) محکمہ داخلہ پنجاب کے تحت پروبیشن اینڈ پیرول سروس کے سمر انٹرنشپ پروگرام کے شرکاء نے محکمہ داخلہ کا تربیتی دورہ کیا، جہاں انہیں فوجداری نظام، اصلاحی اقدامات اور جدید سکیورٹی میکانزم سے آگاہ کیا گیا۔
انٹرنز کے وفد نے سپیشل سیکرٹری داخلہ زینب خان سے ملاقات کی، جبکہ اس موقع پر آئی جی جیل خانہ جات میاں سالک جلال، ڈی جی پروبیشن اینڈ پیرول شاہد اقبال، ایڈیشنل سیکرٹری پریزن رومان بورانہ سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ ایڈیشنل سیکرٹری پریزن نے وزیراعلیٰ پنجاب کی جیل اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
وفد میں 7 جامعات کے 30 طلبہ و طالبات شامل تھے جن کا تعلق سائیکالوجی، سوشیالوجی، سوشل ورک، کریمنالوجی، قانون اور جینڈر اسٹڈیز جیسے مضامین سے تھا۔ ان جامعات میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور،پنجاب یونیورسٹی ، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز، بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی، کنیئرڈ کالج یونیورسٹی اور فارمن کرسچن کالج یونیورسٹی شامل ہیں۔
سپیشل سیکرٹری داخلہ زینب خان کا کہنا تھا کہ پنجاب پروبیشن اینڈ پیرول سسٹم احتساب اور بحالی کے ذریعے جیلوں پر بوجھ کم کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ "نیا آغاز پروگرام” کے تحت رہا ہونے والے مستحق قیدیوں کو 2 لاکھ روپے تک بلاسود قرض فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ وہ جیل میں سیکھے گئے ہنر کی بنیاد پر چھوٹے کاروبار شروع کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں:گورنر پنجاب نے تین بار کے وزیراعظم نوازشریف کو لاہور میں اہم عہدہ دے دیا
آئی جی جیل خانہ جات میاں سالک جلال کے مطابق پنجاب کی جیلوں میں 70 ہزار اسیران کی اصلاحی تربیت جاری ہے، جبکہ بیرک لائبریریوں میں ایک لاکھ سے زائد کتابیں فراہم کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہنرمند اسیر پروگرام کے تحت قیدیوں کو 23 مختلف شعبوں میں تکنیکی تربیت دی جا رہی ہے، جبکہ ملاقات ایپ کے ذریعے اب تک 50 ہزار افراد مستفید ہو چکے ہیں۔
ڈی جی پروبیشن اینڈ پیرول شاہد اقبال کا کہنا تھا کہ محکمہ 40 ہزار پروبیشنرز کی اصلاحی تربیت کر رہا ہے اور انٹرنز کو کریمنل جسٹس اور کمیونٹی کریکشنز سسٹم سے متعلق عملی تجربہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انٹرنز کو پرتشدد انتہا پسندی کے خاتمے سے متعلق بھی خصوصی تربیت دی جا رہی ہے۔
انٹرنز کو پروونشل انٹیلیجنس سینٹر اور ڈیجیٹل میڈیا پبلک آؤٹ ریچ سیل کا دورہ بھی کروایا گیا، جہاں ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز توصیف صبیح گوندل نے سائبر پٹرولنگ اور آگاہی مہم پر بریفنگ دی۔ حکام کے مطابق محکمہ داخلہ سائبر پٹرولنگ سیل محرم سے اب تک 9 ہزار سے زائد قابل اعتراض اکاؤنٹس پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو رپورٹ کر چکا ہے۔
مزید برآں انٹرنز کو سیف سٹیز اتھارٹی، پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ، ریسکیو 1122، سینٹرل جیل لاہور اور پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی کے دورے بھی کروائے گئے تاکہ انہیں عملی نظام سے آگاہی حاصل ہو سکے۔
حکام کے مطابق سمر انٹرنشپ پروگرام مستقبل کے ماہرین کی تیاری اور اصلاحی نظام کو مضبوط بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔













