پی ڈی ایم اے کا مون سون کے چوتھے اسپیل کا الرٹ، صوبہ بھر میں موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی

لاہور(پنجاب پوسٹ) پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبہ بھر میں مون سون بارشوں کے چوتھے اسپیل کا الرٹ جاری کر دیا ہے، جس کے تحت 29 جولائی سے 5 اگست تک مختلف اضلاع میں بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق لاہور، قصور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ، خوشاب، میانوالی، لیہ، بھکر، نورپور تھل، سرگودھا، ساہیوال، اوکاڑہ اور پاکپتن میں موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ جبکہ بہاولپور، بہاولنگر، رحیم یار خان، خانیوال، ملتان، وہاڑی، لودھراں، مظفرگڑھ، کوٹ ادو، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں 31 جولائی سے 3 اگست کے دوران بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

اسی طرح راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، وزیرآباد، سیالکوٹ اور نارووال میں بھی شدید بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ بڑے شہروں لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد اور ملتان میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے، جبکہ مری، گلیات اور دیگر پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر میلہ نے صوبہ بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بالائی کیچمنٹس میں بارشوں کے باعث مشرقی دریاؤں اور برساتی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ اور فلیش فلڈنگ کا خطرہ ہے۔

محکمہ صحت، آبپاشی، تعمیر و مواصلات، لوکل گورنمنٹ اور لائیو اسٹاک سمیت دیگر اداروں کو بھی پیشگی اقدامات کے لیے متحرک کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے۔

پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خراب موسم میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں، بوسیدہ اور کچے مکانات میں رہائش سے گریز کریں اور غیر ضروری سفر سے بچیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ آندھی، طوفان اور بجلی کی گرج چمک کے دوران محفوظ مقامات پر رہیں اور بچوں کو نشیبی علاقوں، کھلے پانی اور بجلی کے کھمبوں سے دور رکھیں۔

ترجمان کے مطابق کسی بھی ہنگامی صورتحال میں شہری پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے