لاہور(پنجاب پوسٹ) کی سیشن کورٹ میں اداکارہ مومنہ اقبال کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے کے مقدمے میں مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرا کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے فریقین کے مؤقف سننے کے بعد ملزمان کی عبوری ضمانت میں 3 ستمبر تک توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر حتمی دلائل طلب کر لیے۔سماعت ایڈیشنل سیشن جج نصرت صدیقی نے کی۔ دوران سماعت تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ثاقب چدھڑ کی حد تک تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور تفتیش کے دوران انہیں قصوروار پایا گیا ہے۔تفتیشی افسر کے مطابق ثاقب چدھڑ کی اہلیہ سمیرا نے دو روز قبل اپنا موبائل فون این سی سی آئی اے کے حوالے کیا، جسے فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے تاکہ مقدمے سے متعلق شواہد کا جائزہ لیا جا سکے۔
اداکارہ مومنہ اقبال کی جانب سے وکیل عدنان احسان ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور ملزمان کی عبوری ضمانت خارج کرنے کی استدعا کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کی آزادی ان کی مؤکلہ کے لیے خطرے کا باعث بن سکتی ہے، اس لیے عبوری ضمانت ختم کی جائے۔دوسری جانب ثاقب چدھڑ کی جانب سے رانا معروف ایڈووکیٹ نے عدالت میں دلائل دیے۔ فریقین کے مؤقف سننے کے بعد عدالت نے حتمی دلائل کے لیے آئندہ تاریخ مقرر کرتے ہوئے ملزمان کی عبوری ضمانت میں 3 ستمبر تک توسیع کر دی۔واضح رہے کہ اداکارہ مومنہ اقبال کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے کے الزام میں این سی سی آئی اے پہلے ہی مقدمہ درج کر چکا ہے، جبکہ کیس کی مزید قانونی کارروائی آئندہ سماعت پر جاری رہے گی۔
















