بیوی کی قابلِ اعتماد گواہی ظلم ثابت کرنے کیلئے کافی ، ہر مقدمے میں میڈیکل رپورٹ یا ایف آئی آر لازمی نہیں،لاہور ہائیکورٹ

لاہور( پنجاب پوسٹ )  لاہور ہائیکورٹ نے حقِ مہر سے متعلق چودہ صفحات پر مشتمل اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بیوی کی قابلِ اعتماد گواہی ظلم ثابت کرنے کیلئے کافی ہوسکتی ہے ، ہر مقدمے میں میڈیکل رپورٹ یا ایف آئی آر لازمی نہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شوہر کے ظلم ثابت ہونے پر بیوی حقِ مہر سے محروم نہیں ہوگی،خلع کا ہر مقدمہ حقِ مہر کی واپسی کا خودکار سبب نہیں،صرف خلع کا لفظ استعمال ہونے سے حقِ مہر ضبط نہیں کیا جا سکتا۔  

یہ بھی پڑھیں : خرچہ نہ دینا، والدین سے رقم مانگنا اور گھر سے نکال دینا ظلم، شوہر کی طرف سے ظلم ثابت ہونے پر بیوی حق مہر کی حقدار ہوگی، لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ نے حقِ مہر کے قانون میں نئی قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا،جسٹس محسن اختر کیانی نے شہری ارسلان کی درخواست  پر  تحریری فیصلہ جاری کیا،چودہ صفحات کا فیصلہ عدالتی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔ 

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فیملی کورٹ ہر کیس کے حقائق پر حقِ مہر کا فیصلہ کرے گی، جسمانی، ذہنی، زبانی، جذباتی اور معاشی تشدد بھی ظلم میں شامل ہے۔ 

عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ  بیوی کی قابلِ اعتماد گواہی ظلم ثابت کرنے کیلئے کافی ہو سکتی ہے، ہر مقدمے میں میڈیکل رپورٹ یا ایف آئی آر لازمی نہیں، حقِ مہر سے پہلے علیحدگی کی وجہ کا تعین ضروری قراردیا گیا ہے،لاہور ہائیکورٹ نے حقِ مہر سے متعلق شوہر کی آئینی درخواست مسترد کر دی۔ 

یہ بھی پڑھیں : رخصتی نہ ہو تب بھی حق مہر لازم، لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے