لاہور (پنجاب پوسٹ)ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید کی زیرِ صدارت انویسٹی گیشن ہیڈ کوارٹرز میں تبدیلی تفتیش فرسٹ بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ماڈل ٹاؤن، اقبال ٹاؤن اور سول لائنز ڈویژن کے ایس پیز نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران قتل، امانت میں خیانت، چیک ڈس آنر، اغواء، دھوکہ دہی اور چوری سمیت مجموعی طور پر 27 مقدمات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ افسران نے دونوں فریقین کو سننے کے بعد تفتیش کی تبدیلی سے متعلق احکامات جاری کیے۔
اجلاس میں مدعی محمد یوسف کے قتل، تسلیم سکندر اور خورشید احمد کے امانت میں خیانت جبکہ شکیلہ رحمت کے اغواء کے مقدمات پیش کیے گئے۔ اسی طرح مدعیہ یاسمین بی بی اور ساجد علی کے چیک ڈس آنر، رفیع الدین کے دھوکہ دہی اور عامر مشتاق کے چوری کے مقدمات بھی زیرِ غور آئے۔
یہ بھی پڑھیں:سرگودھا کی بھکر کے خلاف بڑی فتح، ہینڈبال چیمپئن شپ جیت لی
ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید نے میرٹ پر تفتیش نہ کرنے والے متعدد افسران کو وارننگ اور شوکاز نوٹسز جاری کیے۔ انہوں نے اس موقع پر واضح کیا کہ شہریوں کی شکایات کے ازالے کے لیے فوری رسپانس اولین ترجیح ہے اور غیر جانبدار تفتیش پر کسی قسم کا سمجھوتا برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ خواتین اور بچوں سے متعلق مقدمات میں زیرو ٹالرینس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد جاری ہے، جبکہ تفتیشی عمل میں سائنسی بنیادوں اور جدید تقاضوں کو اپنانا ناگزیر ہے۔
ایس ایس پی محمد نوید کا کہنا تھا کہ نظام میں شفافیت، جوابدہی اور بروقت انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ مظلوم کو فوری انصاف فراہم کرنے کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔













