ڈائریکٹوریٹ جنرل اسپورٹس پنجاب میں جونیئر کلرکوں کی ترقیوں میں کروڑوں روپے کے مبینہ مالی لین دین اور رشوت ستانی کا انکشاف


لاہور(پنجاب پوسٹ) ڈائریکٹوریٹ جنرل اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز پنجاب میں جونیئر کلرکوں کی ترقیوں کے عمل پر سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ متاثرہ ملازمین نے ترقیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں، میرٹ کی خلاف ورزی اور مالی لین دین کے الزامات عائد کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

متاثرہ ملازمین نے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ میں جونیئر کلرک کی آسامیوں پر 20 فیصد کوٹے کے تحت محدود تعداد میں ترقیاں ہونا تھیں تاہم مبینہ طور پر قواعد کے برعکس اضافی ملازمین کو ترقی دے دی گئی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس عمل کے باعث متعدد اہل ملازمین اپنے قانونی حق سے محروم رہے۔

ملازمین کا یہ بھی الزام ہے کہ اہلیت کے معیار پر پورا اترنے والے کئی امیدواروں کو ٹائپنگ ٹیسٹ کے کال لیٹرز جاری نہیں کیے گئے، جبکہ بعض ایسے افراد کو بھی ترقی دے دی گئی جو مبینہ طور پر ٹائپنگ ٹیسٹ میں شریک ہی نہیں ہوئے۔موقف سامنے آیا ہے کہ جن ملازمین نے مبینہ ڈیل کا حصہ بننے یا رشوت دینے سے انکار کیا، انہیں جان بوجھ کر ریس سے باہر رکھا گیا تاکہ صرف پیسے دینے والے امیدواروں کو ایڈجسٹ کیا جا سکے۔

شکایت کنندگان کے مطابق تمام ترقیوں کا ایک مشترکہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کے بجائے الگ الگ نوٹیفکیشن جاری کیے گئے تاکہ مبینہ بے ضابطگیوں کو چھپایا جا سکے۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ترقیوں سے متعلق فائلیں بھی معمول کے دفتری طریقہ کار سے ہٹ کر براہِ راست آگے بھجوائی گئیں۔

متاثرہ ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ ترقیوں کے پورے عمل کی نیب یا اینٹی کرپشن سے آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں، متنازع ٹائپنگ ٹیسٹ منسوخ کر کے دوبارہ شفاف طریقے سے منعقد کیا جائے، جبکہ مبینہ طور پر ذمہ دار افسر کو تحقیقات مکمل ہونے تک عہدے سے الگ کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ قواعد کے خلاف ہونے والی تمام ترقیاں منسوخ کر کے میرٹ کی بنیاد پر دوبارہ عمل مکمل کیا جائے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے