ماں مجھے مار ڈالے گی، مجھے دادا کیساتھ بھیجا جائے، ماں کا رونا بھی معصوم بچے کو موم نہیں کر سکا۔۔۔ عدالت نے ماں کی منتیں کیوں نہ مانیں

لاہور(پنجاب پوسٹ) ہائیکورٹ نے بچے کی بازیابی اور بچے کے والد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے 12 سالہ اظفر جلیل کے بیان کی روشنی میں درخواست کو غیر ضروری قرار دے کر نمٹا دیا۔ عدالت نے بچے کو اس کی خواہش کے مطابق دادا کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی جبکہ سی سی پی او لاہور کے خلاف جاری شوکاز نوٹس بھی جواب کی روشنی میں واپس لے لیا۔
سماعت جسٹس عبہر گل خان نے فخر الحسن کی درخواست پر کی۔ دورانِ سماعت سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ اور ڈی آئی جی فیصل کامران عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ سی سی پی او کے حکم پر بچے اظفر جلیل کو بازیاب کروا کر عدالت میں پیش کر دیا گیا، جس پر عدالت نے شوکاز نوٹس کا جواب تسلی بخش قرار دیتے ہوئے واپس لے لیا۔
عدالت نے بچے اظفر جلیل کا بیان ریکارڈ کیا، جس میں اس نے کہا کہ وہ اپنی مرضی سے ویلنشیا ٹاؤن میں اپنے دادا ظفر کے ساتھ رہ رہا ہے۔ بچے نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ اس کی والدہ نے دھمکی دی تھی کہ اگر وہ اس کے ساتھ نہ رہا تو اس کا گلا کاٹ دیں گی۔


دورانِ سماعت بچے کی والدہ فرح بی بی کمرہ عدالت میں آبدیدہ رہیں اور عدالت سے بار بار استدعا کرتی رہیں کہ بچے کو ان کے حوالے کیا جائے، تاہم عدالت نے بچے کی مرضی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے دادا کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔
سماعت کے دوران عدالت نے بچے کے دادا پر متعدد بار طلبی کے باوجود پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیے کہ عدالت کو سی سی پی او لاہور کو بچے کی بازیابی کا حکم دینا پڑا۔ اس پر بچے کے دادا نے عدالت سے معذرت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں عدالتی حکم کا علم نہیں ہو سکا تھا۔
عدالت میں یہ بھی بتایا گیا کہ درخواست گزار کی پہلی بیوی فرح بی بی نے پہلے بچے کی بازیابی کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ فخر الحسن بچے کو لے کر کراچی چلا گیا تھا، اس لیے اس کے خلاف بچہ چھین کر لے جانے کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔ تاہم بچے کے بیان اور پیش رفت کے بعد عدالت نے درخواست نمٹا دی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے