لاہور(پنجاب پوسٹ) ہائیکورٹ نے فیصل آباد میں آبادی اور اسکول کے قریب واقع ایک بھٹے کو سیل کیے جانے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اہم حکم جاری کر دیا۔ عدالت نے ماحولیاتی ٹربیونل کے دوبارہ فعال ہونے تک بھٹہ سیل کرنے کے حکم پر عمل درآمد معطل کرتے ہوئے بھٹے کو مشروط طور پر ڈی سیل کرنے کی ہدایت دی اور درخواست نمٹا دی۔
سماعت جسٹس احمد ندیم ارشد نے محمد اکرم کی درخواست پر کی، جس میں محکمہ ماحولیات سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا تھا۔ درخواست گزار کے مطابق فیصل آباد میں آبادی اور اسکول کی موجودگی کو جواز بنا کر بھٹہ سیل کیا گیا، جبکہ بھٹہ زگ زیگ ٹیکنالوجی کے اصولوں کے مطابق چلایا جا رہا تھا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات نے حقائق کے برعکس کارروائی کرتے ہوئے بھٹہ سیل کیا، لہٰذا اسے فوری طور پر ڈی سیل کرنے کا حکم دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور ہائیکورٹ میں 10 نئے ججز کی تقرری، 27 جولائی کو حلف برداری
دوران سماعت ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات نے عدالت کو بتایا کہ مذکورہ بھٹہ بغیر این او سی چلایا جا رہا تھا، اسی وجہ سے غیر قانونی طور پر کارروائی کرتے ہوئے اسے سیل کیا گیا۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ آیا بھٹہ چلانے کے لیے این او سی حاصل کیا گیا تھا، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ انہیں اس بارے میں معلومات نہیں۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل چوہدری تنویر اختر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ماحولیاتی ٹربیونل کے جج موسم گرما کی تعطیلات پر ہیں، جس کے باعث ٹربیونل اس وقت فعال نہیں اور درخواست گزار کے پاس مؤثر قانونی فورم دستیاب نہیں۔
عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد حکم دیا کہ ماحولیاتی ٹربیونل کے فعال ہونے تک بھٹہ سیل کرنے کے حکم پر عمل درآمد معطل رہے گا اور بھٹے کو مشروط طور پر ڈی سیل کیا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئندہ کارروائی متعلقہ قانونی فورم کے فعال ہونے کے بعد قانون کے مطابق آگے بڑھائی جائے گی۔











