پنجاب اسمبلی میں طلبہ تنظیموں کی بحالی سے متعلق اہم پیش رفت

پنجاب اسمبلی میں آج طلبہ تنظیموں کی بحالی ایک اہم اور سنجیدہ معاملہ بن چکا ہے۔ ایوان میں طلبہ تنظیموں کی بحالی سے متعلق تحریک التواء کار عام بحث کے لیے لائی جائے گی۔ یہ معاملہ صوبے کے تعلیمی اداروں اور طلبہ مسائل کے تناظر میں نمایاں اہمیت رکھتا ہے۔

تحریک التواء کار اپوزیشن کے رکن احمر بھٹی کی جانب سے اسمبلی میں پیش کی گئی تھی۔ تحریک کے متن میں صوبے میں طلبہ کو درپیش مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ متن کے مطابق ماضی میں طلبہ تنظیمیں طلبہ مسائل کے حل کا مؤثر ذریعہ تھیں۔ ان تنظیموں کے ذریعے طلبہ کے تعلیمی اور انتظامی مسائل بروقت حل ہو جاتے تھے۔ طلبہ کو اپنی آواز ادارہ جاتی سطح پر پہنچانے کا موقع میسر آتا تھا۔ اس نظام سے طلبہ اور انتظامیہ کے درمیان رابطہ بہتر رہتا تھا۔

تحریک کے متن میں بتایا گیا ہے کہ حکومت وقت نے طلبہ تنظیموں پر پابندیاں عائد کیں۔ یہ پابندیاں تاحال صوبے کے کالجز اور یونیورسٹیوں میں برقرار ہیں۔ اس صورتحال کے باعث اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ نمائندگی محدود ہو چکی ہے۔ متن میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ موجودہ حکومت نے اسکول سطح پر سٹوڈنٹ یونینز بنائیں۔ تاہم کالجز اور یونیورسٹی سطح پر طلبہ تنظیموں پر پابندیاں بدستور قائم ہیں۔ یہ فرق طلبہ میں تشویش اور بے چینی کا سبب بن رہا ہے۔

تحریک میں حالیہ عرصے کے دوران طلبہ خودکشیوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ کہا گیا کہ مسائل حل نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے۔ اداروں میں مؤثر نمائندگی نہ ہونے سے شکایات سننے کا کوئی فورم موجود نہیں۔ تحریک کے متن کے مطابق اگر سٹوڈنٹ یونین موجود ہوتیں تو حل ممکن تھا۔ طلبہ کے مسائل اجتماعی سطح پر اداروں کے سامنے رکھے جا سکتے تھے۔ ذہنی دباؤ اور تعلیمی مسائل پر بروقت توجہ دی جا سکتی تھی۔

طلبہ تنظیموں کی جانب سے ناصر باغ سے پنجاب اسمبلی تک یکجہتی مارچ بھی کیا گیا۔ اس مارچ کا مقصد اپنے مطالبات کو پُرامن انداز میں اجاگر کرنا تھا۔ مارچ میں طلبہ نے مختلف تعلیمی مسائل پر توجہ دلائی۔ طلبہ نے یونین کی بحالی کا مطالبہ نمایاں طور پر پیش کیا۔ انہوں نے ہراسانی کے خلاف کمیٹیوں کے قیام کا بھی مطالبہ کیا۔ مارچ میں بڑھتی ہوئی خودکشیوں کے پس منظر پر ادارہ جاتی وجوہات کا ذکر کیا گیا۔

صوبہ بھر کے طلبہ حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ کالجز یونین بحال کی جائیں۔ طلبہ کے مطابق یہ قدم تعلیمی ماحول بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے۔ اس معاملے پر صوبے کے کالجز اور یونیورسٹیوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ آج ارکان اسمبلی تحریک التواء کار پر اپنی آراء پیش کریں گے۔ ایوان میں ہونے والی بحث کے بعد آئندہ لائحہ عمل متوقع ہے۔ طلبہ تنظیموں کی بحالی کو تعلیمی نظام کے لیے ایک اہم معاملہ سمجھا جا رہا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے