خواتین کھلاڑیوں کی ہنگامہ آرائی، پنجاب یونیورسٹی اور لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی پر بڑی پابندی لگ گئی

لاہور ( پنجاب پوسٹ ) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ویمنز بیس بال چیمپئن شپ کے فائنل میچ اور اختتامی تقریب کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات اور بدانتظامی پر سخت ڈسپلنری کارروائی کرتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی اور لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی (LCWU) پر ایک سال کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔

ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق دونوں جامعات آئندہ ایک سال تک ایچ ای سی کے زیرِ اہتمام ہونے والے تمام ویمنز بیس بال ایونٹس میں شرکت کی اہل نہیں ہوں گی۔ یہ فیصلہ فائنل میچ کے بعد پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیا گیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ہنگامہ آرائی اور تشدد میں ملوث کھلاڑیوں پر بھی ایک سال کے لیے ایچ ای سی کے تمام سپورٹس ایونٹس میں شرکت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ٹیموں کے کوچز، منیجرز اور آفیشلز کو بھی ایک سال کے لیے ایچ ای سی کی تمام کھیلوں کی سرگرمیوں سے معطل کر دیا گیا ہے۔

ایچ ای سی کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کے مابین کھیلوں کے مقابلوں میں نظم و ضبط، اسپورٹس مین اسپرٹ اور ضابطہ اخلاق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ کمیشن کے مطابق مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات جاری رہیں گے اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

ایچ ای سی نے واضح کیا ہے کہ یہ کارروائی ویمنز بیس بال چیمپئن شپ کے فائنل میچ اور اختتامی تقریب میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات کے تناظر میں کی گئی ہے، جبکہ جاری کردہ ڈسپلنری احکامات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے