مری( پنجاب پوسٹ) مون سون کے دوسرے اسپیل کے دوران مری اور گردونواح میں ہونے والی موسلادھار بارش نے معمولاتِ زندگی متاثر کر دیے۔ شہر میں 100 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد موسم خوشگوار ہونے کے ساتھ سردی کی شدت بھی بڑھ گئی اور شہریوں نے دوبارہ جیکٹس اور چادروں کا استعمال شروع کر دیا۔
مشدید بارش کے باعث مری ایکسپریس وے پر مانگا کے مقام پر نالہ بند ہونے سے برساتی پانی سڑک پر جمع ہوگیا، جس کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ عینی شاہدین کے مطابق پانی ایکسپریس وے پر داخل ہونے سے متعدد گاڑیاں بند ہوگئیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مری ایکسپریس وے کے اطراف اسٹریٹ لائٹس بھی بند رہیں، جس سے رات کے اوقات میں سفر مزید دشوار ہوگیا، جبکہ سیاحوں اور مقامی افراد کو بھی شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں؛لاہور: کس علاقے میں کتنی بارش ہوئی؟ اعدادوشمار جاری
مسلسل بارش کے باعث بوستان لنک روڈ پر لینڈ سلائیڈنگ کا واقعہ پیش آیا، جبکہ بڑے بڑے پتھر سڑک پر آگرے۔ مختلف علاقوں سے درخت گرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں، جس کے باعث آمدورفت متاثر رہی۔
کشمیر پوائنٹ پر گورنمنٹ ہاؤس کے قریب بجلی کی تاریں ٹوٹ گئیں، جس سے متعدد علاقوں کی بجلی معطل ہوگئی۔
انتظامیہ نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور روانگی سے قبل موسم اور سڑکوں کی صورتحال معلوم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
شہریوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایکسپریس وے سے فوری نکاسی آب، لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند راستوں کی بحالی اور ٹریفک کی روانی بحال کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔













